خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد ۱۲ 485 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء جاودانی تاریخ ہو جایا کرتی ہے۔ان قوموں کی بقا کا اور کوئی علاج ہمارے پاس نہیں اور نہ سوچا جا سکتا ہے۔پس ایک ہی علاج ہے۔ایک ہی احسان ہے جو آپ ان پر کر سکتے ہیں کہ ان کو اسلام میں اور حقیقی اسلام میں داخل کریں۔اگر آج امریکہ کی سیاہ فام قو میں حقیقی اسلام میں داخل ہوں جو انتقام اور Inferioraty Complex احساس کمتری سے عاری ہوتا ہے۔حقیقی اسلام میں احساس کمتری کے لئے کوئی جگہ کوئی گنجائش باقی نہیں۔حقیقی اسلام تو سروں کو بلند کرتا ہے ، حقیقی اسلام میں قومی انتقاموں کی کوئی گنجائش نہیں، حقیقی اسلام تو وہ ہے جو قوموں کے ظلم وستم کی تاریخوں کو یکسر مٹا ڈالتا ہے۔انسانیت کا ایک نیا آغاز کرتا ہے جس کا آغاز محبت اور بھائی چارے پر ہوتا ہے۔دیکھو ر بوں میں بھی تو کتنی لمبی ظلم و ستم کی داستانیں رائج تھیں۔ایسی جنگیں تھیں جو دو دو سال تک لڑی گئیں۔ایسے قبائل تھے جو دوسرے قبیلے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔اگر ایک قبیلے کا آدمی غلطی سے دوسرے قبیلے میں چلا جاتا تھا تو وہ لازماً قتل کر دیا جاتا تھا۔آنحضرت ﷺ کے قدم نے وہ ساری آگ ٹھنڈی کر دی۔رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ (الانباء: ۱۰۸) کے ایک قدم نے انتقام کے جذ بہ کو بڑھا کر نہیں بلکہ انتقام کے جذبے کو مٹا کر، اس آگ کو رحمت کے پانی سے بجھا کر عرب کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔پس یہ وہ تبدیلی ہے جس کی امریکہ کی سیاہ فام قو میں آج محتاج ہیں۔اس تبدیلی کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتیں۔اس تبدیلی کے بغیر وہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل نہیں کرسکتیں۔پس اہل امریکہ کو آپ نے اگر دنیا میں باقی رکھنا ہے تو ان کے ایک حصہ کو اسلام میں داخل کریں اور اسلام کی اعلیٰ اقداران میں جاری کریں۔امریکہ کی وہ تمام مظلوم قو میں یا باہر سے آنے والی قومیں جو آئی ہوں یا لائی گئی ہوں، دنیا کمانے کے لئے آئی ہوں یا دنیا کمانے کی خاطر ز بر دستی لائی گئی ہوں ان سب قوموں کا حل اسلام میں ہے اور حقیقی اسلام میں ہے۔پس امریکہ کی جماعت کے لئے اتنے بڑے وسیع میدان موجود ہیں اور اس کے باوجود وہ خاموش بیٹھے ہیں اور زیادہ سے زیادہ جو خوشخبری ملتی ہے کہ اس سال ہمارے ایک سو احمدی ہو گئے ، ڈیڑھ سو احمدی ہو گئے اور ساری جماعت اس پر فخر کرتی ہے۔اس پہلو سے تو فخر بجا ہے کہ ایک سو کو ہلاکت سے بچا کر ہمیں اسلام کے رحمت کے سائے میں داخل کرنے کی توفیق ملی لیکن جو