خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد ۱۲ 484 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء خوفناک ہے کہ وہاں کے جو تاریخ کے ماہر لوگ تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ بڑی بھاری تعداد میں لوگ سانس کی گھٹن سے اس قید خانہ میں مرجایا کرتے تھے۔فارغ ہونے کی کوئی جگہ نہیں۔کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح مرغیوں کو ڈربے میں دو چار دن بند کر دیا جاتا ہے تو وہ زندہ نکل آتی ہیں اس طرح وہ لوگ جتنے بچیں گے اتنے ہی سہی اور اتنے دردناک حالات ہیں کہ ان جگہوں کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر جن جہازوں پر لاد کر ان کو امریکہ لے جایا جاتا تھا ان جہازوں میں ایک بڑی تعداد فاقوں سے یا بیماریوں سے سکتی سسکتی مر جایا کرتی تھی اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں تھا چونکہ مفت کی کمائی تھی اس لئے کوئی پرواہ نہیں تھی۔اگر ہزار نہیں پہنچیں گے تو دوسوتو پہنچیں گے۔وہی بڑی نعمت ہوگی۔وہی ان کے لئے دولت کمانے کا ایک ذریعہ بن جایا کرتا تھا اور یہ کاروبار ایک بہت لمبے عرصہ تک اس زمانے میں ہوا ہے جسے یہ Civilized زمانہ کہتے ہیں۔اس زمانے میں ہوا ہے جسے یہ انسانی تہذیب کے اور انسانی تمدن کی ترقی کا زمانہ کہتے ہیں۔لاکھوں بلکہ اگر کروڑوں کہا جائے تو بعید نہیں کیونکہ پھر ان غلاموں کے بچے بھی غلام رہے پھر ان کے بچے بھی غلام رہے۔پس عملاً آخر کار اس تعداد کو اگر کروڑوں شمار کیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔کروڑوں کی تعداد میں زبر دستی غلام بنا کر ظالمانہ کام لئے گئے اور یہ قو میں اسلام پر ہنستی ہیں۔اسلام کی غلامی کی تعلیم کا تذکرہ کرتی ہیں اور اس کا مذاق اڑاتی ہیں دجل کی عجیب کیفیت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تمام عالم پر ایک احسان فرمایا ہے۔جب یہ بتایا کہ دجال کون ہو گا۔کیسے ظہور کرے گا ؟ کہاں کہاں اس کا اثر پہنچے گا۔کس طرح اس کو پہچاننا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جو دجال کے فتنے سے اپنی قوم کو ڈرا کر نہ گیا ہو۔پس یہ وہ فتنے کا زمانہ ہے جس میں ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔امریکہ کی جماعت کو چاہئے کہ اس تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان مظلوموں تک پہنچیں جو ان ظالموں کے ظلموں کا نشانہ بنے جنہوں نے عیسائیت کے نام پر دنیا میں حکومتیں قائم کی ہیں۔آج ہم نے جو بدلہ لینا ہے وہ وہ بدلہ نہیں جو عرف عام میں اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے یعنی ظلم کا بدلہ ظلم سے لینا۔ہم نے ظلم کا بدلہ عفو اور اصلاح سے لینا ہے ان قوموں کی طرف رحمت کی توجہ کرنی ہے۔انہیں انتقام پر نہیں ابھارنا۔ان قوموں کا انتقام یہی ہے کہ یہ خدا والی قومیں بن جائیں اور آسمان پر ان کے نام لکھے جائیں اور اس تاریخ کا حصہ بن جائیں جو