خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۱۲ 478 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء دفاع میں بھی جنگ کی ہو تو ساری دنیا میں شور مچارکھا ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے، اسلام تلوار سے پھیلا ہے ، یہ ظالموں کا ٹولہ ہے، یہ زبردستی دین بدلنے والا ٹولہ ہے اور عیسائیت کی تاریخ کو جانتے بوجھتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ حقیقت میں اگر تلوار کے زور سے کوئی مذہب دنیا میں پھیلا ہے تو وہ عیسائیت ہے۔ان کے جو بڑے بڑے ہولی Holy بادشاہ ہیں ، جن کا مقدس اولاف وغیرہ نام لیتے ہیں یہ وہ ہیں جنہوں نے اس غریب قوم کو تلوار کے زور سے عیسائی بنایا اور پھر ان کی اپنی زبان ان پر حرام کر دی۔آج سے چند سال پہلے تک یعنی ایک دو ر ہا ئے“ تک یہ اس علاقے میں، اپنے ملک میں خود اپنی زبان بھی لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے۔یہ قانون کے خلاف تھا اور 1030ء سے لے کر پچھلے دھاکے تک یا دودھا کے تک یہی قانون چل رہا تھا کہ لاپ قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی انسان اپنی زبان نہ پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے اور اس طرح زبر دستی ان کے مذہب کو تبدیل کیا گیا۔ان قوموں پر اور بھی طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے لیکن مظالم ڈھانے والے Holy بن کر ابھرے یعنی مقدس وجود بن کر ابھرے کیونکہ انہوں نے عیسائیت کے نام پر یہ سارے مظالم کئے تھے۔ان سب باتوں سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے اور اسلامی تاریخ میں کہیں ظلم کا کوئی معمولی سا قصہ ان کو دکھائی دے تو اس کو اچھال کر سارے اسلام کا منہ کالا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس یہ بھی ایک دجل ہے جس کے مقابلہ کے لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے آج ہم یہاں تھوڑے ہیں۔آج آپ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے بڑے بادشاہوں کے نام یہاں عمارتوں پر کندہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے کبھی یہ جگہ دریافت کی یا جو بعد میں آئے اور جنہوں نے کچھ کام کئے یا وہ بادشاہ جو اس ملک سے تعلق رکھنے والے تھے یا باہر سے آنے والے تھے وہ کس کس سن میں آئے ان کے نام بھی یہاں کندہ ہیں ان کی تصویریں بھی ہیں۔مختصراً میں آپ کو بتاتا ہوں کہ سب سے پہلے اس جگہ یعنی North Cape کو دریافت کرنے والا ایک انگریز تھا جس کا نام (Richard Tansler) تھا اس نے 1553ء میں یہ جگہ دریافت کی اس کے ساتھ 48 آدمیوں کا ایک قافلہ تھا۔ان کے بت ایک جگہ بنے ہوئے ہیں اور تاریخ لکھی ہوئی ہے کہ کب وہ لوگ آئے کس طرح آئے اور یہیں جہاں ہم اس وقت جمعہ ادا کر رہے ہیں اسی عمارت میں یہ تذکرے محفوظ کر لئے گئے ہیں۔پہلا سیاح جو اپنے طور پر یہاں آیا ہے وہ اٹالین تھا۔اس کا نام فرانسسکو نیگری