خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد ۱۲ 451 خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء ہو جائے گا اور جس کے پاس نہیں ہے۔اُس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو اس کے پاس ہے۔میں اُن سے تمثیلوں میں اس لئے باتیں کرتا ہوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے اور اُن کے حق میں یسعیاہ کی یہ پیش گوئی پوری ہوتی ہے کہ تم کانوں سے سنو گے پر ہرگز نہ سمجھو گے۔۔۔۔۔(انجیل متی : باب ۱۳۔۱ تا ۱۵) اس تمثیل کا جو دوسرا حصہ ہے وہ بعد میں بیان ہوگا۔پہلے حصہ کے متعلق قرآن کریم کی دو آیات ہیں جو ذہن میں ابھرتی ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرمایا فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صلدًا (البقره: ۲۶۵) کہ اس پیج کی مثال یعنی اس کام کی مثال جو ریا کی خاطر کیا جائے ، جو خالصہ اللہ کی رضا کی خاطر نہ کیا جائے۔اس میں ریاء الناس کا پہلو شامل ہو اس کی مثال ایسی ہے کہ وہ چٹان پر گرے ہوئے بیج کی طرح ہے جس پر کچھ تھوڑی سی مٹی ہو۔فَأَصَابَهُ وَابِل پھر جب تیز بارش اس کو پہنچتی ہے فَتَرَكَهُ صَلَدًا تو وہ مٹی کو بہالے جاتی ہے اور چٹان کو اسی طرح چٹیل چھوڑ دیتی ہے۔اس کلام الہی میں ایک بڑھی ہوئی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگ جن کے بیج ضائع ہوتے ہیں ان کی اندرونی کمزوریوں کی بھی نشاندہی فرما دی گئی ہے۔ورنہ خالص مومن اور خالص متقی کا پیج ضائع نہیں ہوا کرتا۔فرمایا ہے کچھ بیچ چٹانوں پر پڑتے ضرور ہیں لیکن مومن چٹانوں پر بیج نہیں پھینکا کرتے کیونکہ مومن صرف دکھاوے کی خاطر، اپنے نمبر بنانے کے لئے کام نہیں کیا کرتے کہ جی! ہم نے اتنی تبلیغ کردی ، اتنے آدمیوں تک پیغام پہنچا دیا، رپورٹیں ایسی باتوں سے بھری ہوتی ہیں نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اس کے بعد یہ ہو گیا اور لوگ بھاگ گئے اور اس کے بعد یہ ہو گیا اور کوئی فائدہ نہ پہنچا۔اس کے بعد یہ حادثہ پیش آ گیا۔قرآن کریم نے مثال تو مسیح والی بیان کی لیکن دیکھیں اس میں کیسی عظمت پیدا کر دی جو طبیعت کا بہت ہی گہر اشنا سا معالج ہو اس کی طرح مرض کی تشخیص بھی فرما دی۔فرمایا ! اگرتم بیج پھینکو اور ہر دفعہ تمہارا پیج ضائع ہو جایا کرے اور جب بارش برسے تو وہ دور ہو جائے بجائے قریب آنے کے۔مطلب یہ ہے کہ بجائے آگ کر نشو و نما پا کر تمہاری کھیتی بننے کے تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے