خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 436

خطبات طاہر جلد ۱۲ 436 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء کے والد کو بھی ، اس کے خاندان سے بے تکلفی کے تعلقات ، جس طرح وہ گھر کا بچہ ہو تو بعض دفعہ انسان کہ دیتا ہے پاگل ہے۔کیا بے وقوفی کر بیٹھا۔وہ بہترین سائیکلسٹ ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو سائیکل چلانے کی بہت اچھی صلاحیت دی ہے۔پتا نہیں اس کے دماغ میں کیا گو دی کہ سائیکل چھوڑ کر کبڈی کے میدان میں آگیا اور پھر بار بار کھلا جھپا ڈالنے کی کوشش کرتا تھا۔ایک ہوتا ہے داؤ لگا کر اچانک بلہ بول کر کوئی انسان کسی کی ٹانگ پکڑلے یا قیچی مار دے یا کلائی پر ہاتھ ڈال دے، ایسا کرنے سے بالعموم شکار ہاتھ آجاتا ہے مگر ایک ہوتا ہے۔سامنے چیلنج کر کے آمنے سامنے کسی کو کہا جائے آؤ اب نکل کے دکھاؤ جسے پنجابی میں کھلا اچھا کہتے ہیں اب اس بیچارے کو آتا نہیں تھا اور چھے ایسے ڈالتا تھا تو میں نے کہا کہ اس پاگل کو کیوں اٹھا کر لائے ہو اور اس کو سو بھی کیا ؟ میں نے بعد میں بھی اس سے ناراضگی کا اظہار کیا کہ تم اچھے بھلے سائیکل پر تھے، زمین پر کیوں اتر آئے؟ سائیکل چلاؤ اور نام پیدا کرو۔ساری دنیا میں اپنے اور اپنے عزیزوں کے لئے جو یہ شرمندگی دکھا رہے ہو تو کس لئے ؟ اور یہ نہیں پتا تھا کہ جب میں نے اس کو پاگل کہا تو وہ اپنے پیار کے رنگ میں تھا جس طرح کسی عزیز کو آدمی کہ دیتا ہے کہ اس پاگل کو کیوں پکڑ لائے لیکن ساری دنیا میں اب وہ کہیں پاگل ہی نہ مشہور ہو جائے حالانکہ وہ پاگل واگل بالکل نہیں ہے۔اللہ کے فضل سے اچھا بھلا ہونہار بچہ ہے۔جسم بھی خوبصورت اور قد آور اور بہادر ہے تب ہی وہ کھلے ہاتھ ڈالتا تھا مگر آگے سے بڑے بڑے طاقتو را اچھے آنے والے تھے جس طرح افضل تھے۔اس کا ان کے ساتھ کوئی جوڑ ہی نہیں تھا۔بار باران پر حملہ کر کے خواہ خواہ پوائنٹ بھی گنواتا تھا مگر چونکہ میرے علم میں یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں لوگ یہ سنیں گے اور اس بیچارے کی بدنامی ہوگی۔اس لئے خیال یہ تھا کہ جب الگ ملوں گا تو اس کو سمجھا دوں گا کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا لیکن جب پتا لگا کہ یہ بات تو ساری دنیا میں پھیل گئی ہے تو میں بہت ہی شرمندہ ہوا۔میں نے کہا کہ اس بیچارے نے کیا شرمندہ ہونا ہے جتنا میں شرمندہ ہو گیا ہوں اور فرض سمجھا کہ اس سے میں معافی مانگوں۔ایک بات اور مجھے بتائی گئی ہے لیکن وہ ایسی بات نہیں ہے جسے میں مخفی رکھنا چاہتا تھا۔وہ ایک اصولی چیز ہے جس کو جماعت کے علم میں آنا چاہئے۔صدر صاحب مجلس خدام الاحمد یہ جرمنی بہت ہی مخلص فدائی اور بہت اچھے منتظم ہیں اور ان کے دور میں خدا کے فضل سے مجلس خدام الاحمدیہ بڑی