خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد ۱۲ 40 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء دیکھ رہے ہوں گے ، ربوہ میں فلاں فلاں جگہ اس طرح لوگ اکٹھے ہوں گے۔احمد نگر میں وہ غیر احمدی زمیندار بھی جنہوں نے آنکھیں پھیر لی تھیں اور تعلق تو ڑ لئے تھے۔وہ بھی وہاں اکٹھے ہو گئے ہوں گے اور لالی قوم سے اگر چہ بہت تعلقات تھے لیکن آنکھیں پھیر نے میں بھی یہ بڑی ماہر ہے اور ان کی لالی سرخی کی لالی کی طرح ہونٹوں پر اور گالوں پر رہتی ہے دل پر اثر نہیں کرتی لیکن اب سنا ہے وہ بھی آنے لگ گئے ہیں اور وہاں ایک بہت غریب سے آدمی لالہ تھے۔ایک اچھے بااثر انسان کے باپ لیکن خود غریب وہ تو شاید فوت ہو چکے ہیں لیکن یہ سارے لوگ چشم تصور میں سامنے آتے ہیں۔ہمارا رحماں جو احمد نگر میں میرے فارم پر کام کیا کرتا تھا اس کو بھی کوئی پکڑ کر لائے اور کسی دن دکھائے کیونکہ اس کا ایک دفعہ خط ملا تھا کہ میں تو ترس گیا ہوں آپ ضرور واپس آئیں ، وہ کافی بوڑھا ہو چکا ہے۔پھر ایک شاید بابا معراج موچی ہوا کرتے تھے جو لائبریری کے باہر پرے بیٹھا کرتے تھے ان سے محبت کا بہت دیرینہ تعلق تھا۔وہاں سے سائیکل پر جاتا تھا تو ہر دفعہ تو نہیں مگر اکثر روک لیا کرتے تھے اور جب تک مل کر سلام کر کے نہ گزروں وہ ٹیکس ادا کئے بغیر مجھے جانے نہیں دیتے تھے وہ تو اب فوت ہو گئے ہیں لیکن ایسے کئی تھے جواب اکٹھے ہو رہے ہوں گے اور اس وقت دیکھ رہے ہوں گے۔تو یہ جو انہی تعلق ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور المی تعلق کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ تعلق جس سے ہو وہاں ٹھہر نہیں جاتا بلکہ خدا کی خاطر ہے آخر خدا تک پہنچتا ہے۔اس لئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ الا اللہ ن الحُبُّ فی اللہ کی تعلیم دی ہے ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر (۲۰۳۴) جو پیر ہیں ان سے تو تعلق ہوتا ہے کہ پیر کے پاس پہنچا اور اسی کا ہورہا لیکن جو محبت اللہ کے لئے ہوتی ہے۔وہ قبلہ نما رنگ اختیار کر جاتی ہے۔جس سے پیار ہو تو چونکہ وہ اللہ کی خاطر ہوتا ہے اس لئے وہاں کھڑا نہیں ہو جایا کرتا بلکہ اس سے آگے اس سے اوپر کے درجہ کے اللہ والوں کی طرف وہ پیار بڑھتا اور پھر ان سے ہوتا ہوا آخر خدا پر جا کر فتح ہوتا ہے۔پس وہ محبت جو مجھ سے ہے وہ میری ذات سے نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے اس زمانہ میں یہ محبت پیدا ہوئی۔پس مجھ سے آگے سفر کرتی ہے میرے دل پر ایک نقش پا چھوڑ جاتی ہے جو مجھے بہت ہی پیارا ہے لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچتی ہے۔اور آپ کے دل پر نقش چھوڑتی ہوئی پھر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہے اور آپ وسیلہ ہیں اور قرآن کریم نے جو وسیلہ فرمایا تو مطلب یہ ہے کہ کسی محبت کو بھی اپنی ذات تک نہیں رہنے دیتے تھے