خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد ۱۲ 435 خطبه جمعه ۴ / جون ۱۹۹۳ء سے بھی بولوں تو اتنی دور آواز نہیں جائے گی ۔ انسان نزدیک بیٹھے ہوئے دوستوں سے بعض ایسے تبصرے کر لیتا ہے جن کے متعلق پتا ہوتا ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی سخت بات ہوئی ہے اس کی دل آزاری ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اسے وہ بات نہیں پہنچی اور اس وقت دل میں جو ایک جذبہ اٹھتا ہے اس کا اظہار ہو کر ایک بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے تو چند ایسی باتیں جو بے تکلف ماحول میں میں آفتاب خان صاحب سے کر رہا تھا ( جو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کو بتا رہا تھا کہ یہ کیا ہو گیا یہ کیا ہو گیا ؟ اور بعض باتوں سے طبیعت واقعی بڑی منقبض ہوئی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر ہرگز یہ مراد نہیں تھی کہ شخص مذکور کی دل آزاری ہو لیکن بعد میں جب مجھے پتا چلا کہ وہ تو ساری دنیا سن رہی تھی تو میں نے کہا کہ اس بیچارے کا تو جیسے پنجابی میں کہتے ہیں حشر ہو گیا ہوگا۔ اس کے رشتہ دار شرمندہ ہو رہے ہوں گے اور ساری دنیا میں لوگ اس کو کیا کہیں گے ۔ اتنی مجھے تکلیف ہوئی کہ ساری رات میں سو نہیں سکا۔ استغفار کرتا رہا اور دل چاہا کہ ابھی ان سے معافی مانگوں تا کہ میرے دل کو تسلی ہو لیکن مجھے خیال آیا کہ ان بیچاروں کی شرمندگی تو عالمگیر ہے۔ معافی میں الگ لکھ کر مانگ لوں تو فائدہ کیا ؟ اس لئے عالمی خطاب میں ہی معافی بھی ہونی چاہئے ۔ ان میں سے مثلاً ایک ریفری صاحب کے متعلق میں نے کہا تھا کہ میں ان کو جانتا ہوں ان کو ریفری بنانا ہی نہیں چاہئے تھا ۔ بعد میں جب مجھ سے پوچھا گیا کہ ان کو ہٹائیں تو میں نے کہا نہیں بالکل نہیں ہٹانا۔ بد دیانت نہیں ہیں ۔ عام فیصلے بالکل ٹھیک کرتے چلے جاتے ہیں مگر جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو ان کا دل چونکہ نرم ہے سخت فیصلہ کر ہی نہیں سکتے ۔ میں ان کو بڑی دیر سے جانتا ہوں ۔ پہلے بار ہا مجھے ان کے بعض فیصلوں کے وقت طبیعت میں ایک کوفت ہوا کرتی تھی کہ یہ واضح فیصلہ کرنا چاہئے تھا لیکن اس کی بجائے بیچ میں دب گئے ۔ دوطرفہ فیصلہ کرنے کی کوشش کی ایک ٹیم کے خلاف کھلم کھلا فیصلہ کرنے کی بجائے بیچ میں رکھ کر دونوں کے دل خوش کرنے کی کوشش کر لی ۔ یہ مقصد تھا یہ اصل وجہ تھی اور میں ان کو علیحدگی میں سمجھا دیتا لیکن آفتاب خان صاحب کے پاس بات کر کے میرے دل میں جو ہلکا سا غبار تھا وہ نکل گیا لیکن یہ کیا پتا تھا کہ ان کے سارے رشتہ دار ، سارے دوست واقف جاپان تک سن رہے ہوں گے اور وہ کہیں گے کہ لو جی ! اچھا ریفری نکلا ہے یہ تو خدمت کی بجائے اپنا اور نقصان کرا بیٹھا۔ اسی طرح ایک نوجوان بابر نام کا تھا اس کے دادا کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور اس