خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 434
خطبات طاہر جلد ۱۲ 434 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۹۳ء حقیر کیڑا سمجھے یہی مضمون ہے جس کو انبیاء جب پا جاتے ہیں تو اپنے رب کے حضور اس قسم کی دردناک صدائیں بلند کرتے ہیں کہ کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ( در مشین صفحہ: ۱۲۵) اور جو متکبر اور مغرور ملاں ہے وہ ہنستا ہے اور قہقہے لگاتا ہے کہ یہ نبی اللہ ہے جو انسانوں کی عار ہے۔ وہ نہیں سمجھتا کہ یہ انسانوں کی عار ہونا ایک صاحب عرفان کا کمال ہے اور غیر معمولی درجہ کمال پر پہنچے بغیر یہ عرفان حاصل نہیں ہو سکتا اور اسی میں ساری عزتیں ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی مضمون کو اس طرح بھی بیان فرماتے ہیں کہ ه بدتر بنوہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں (در ثمین صفحہ:۱۱۳) تو جو خدا کا عاشق ہے جو وصل کا خواہاں ہے اس کو اگر بدتر بننے سے خدا ملتا ہے تو اسے بدتر بننے میں کیا نقصان ہے۔ پھر تو ساری خیر بدتر بننے سے ہی وابستہ ہوگئی جس رستے سے اپنا محبوب مل جائے وہ رستہ اینٹوں کا بنا ہو، پتھروں کا ہو یا کانٹے سجائے گئے ہوں ، ہر محبت کرنے والا تو رستے کی نوعیت سے بے خبر اس پر دوڑتا ہے۔ زخمی ہو، چھلنی ہو، مصیبتوں میں مبتلا ہو، گڑھوں میں جا پڑے تب اس نے ان راستوں پر چلنا ہی چلنا ہے۔ ہمیں تو راہ رووں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا مگر جو بے خبر ہے اور جاہل ہے وہ ان باتوں کو نہیں سمجھتا۔ پس ساری کائنات میں ہمارے لئے حسن کے بھی پیغامات ہیں اور عجز کے بھی پیغامات ہیں اور جہاں تک مغفرت کا تعلق ہے اس مضمون سے یہ بات چھڑتے چھڑتے یہاں تک پہنچی ہے۔ ایک معاملہ میں مجھے بھی خدام سے معافی مانگنا ہے اور چونکہ یہ ذکر چل پڑا ہے اس لئے بہترین موقع ہے کہ اسی موقع پر میں اپنے دل سے یہ بوجھ اُتاروں ۔ جب کبڈی کا میچ ہو رہا تھا تو مجھے یہ بتایا نہیں گیا کہ میں جو بات کر رہا ہوں وہ ساری دنیا سن رہی ہے۔ میں یہی سمجھ رہا تھا کہ جسوال صاحب اپنا کیمرہ بہت دور لگائے ہوئے ہیں اور اگر میں زور