خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 428
خطبات طاہر جلد ۱۲ 428 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء حالات کا علم ہوتا ہے، بعض صدمات کا علم ہوتا ہے بعض خاندانوں میں چپقلشیں ہیں۔بعض بچیاں اپنے سرال کے ظلم وستم کا ذکر کرتی ہیں بعض بڑے اپنے دامادوں یا بہوؤں کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اگر چہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یکطرفہ باتوں کو قبول کر کے دوسرے فریق سے متعلق کوئی قطعی رائے قائم کی جائے لیکن یہ بھی ناممکن ہے کہ طبیعت کو ملال نہ پہنچے۔یہ ایک طبعی بات ہے اور بہت گہرا طبیعت پر اثر پڑتا ہے، پھر بعض لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں اور ان کے جذبات کے مقابل پر انسان کی ایک قسم کی بے بسی ہوتی ہے، پھر بعض بچے اپنے پیار اور محبت کا خاص طریق پر اظہار کرتے ہیں۔غرضیکہ جتنے بھی جماعتی پروگرام ہیں ان میں لمبی سے لمبی تقریر کے مقابل پر تھوڑی ملاقاتوں کا بھی زیادہ نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے لیکن یہ نظام جماعت کا ایک ایسا حصہ بن گیا ہے جس کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس کے جذباتی دباؤ یا نفسیاتی تکلیف ایک طرف لیکن فوائد بہت زیادہ ہیں اور ایسی ملاقاتوں کے درمیان بہت سی دلچسپ باتیں بھی پتا چلتی ہیں۔بعض لطائف بھی علم میں آتے ہیں بچوں کی معصوم بھولی بھالی باتیں بتائی جاتی ہیں اور بعض لوگ ایک ایسی خاص خواہش کے پیش نظر ملاقات کرتے ہیں جس کی طرف خواب و خیال میں بھی ذہن نہیں جاسکتا اور جب بتاتے ہیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور حیرت بھی اور پھر بعض دفعہ اسی میں سے عرفان کا ایک نکتہ بھی ہاتھ آجاتا ہے۔مثلاً اسی دفعہ جرمنی کی ملاقات میں ایک صاحب نے جو بہت مدت سے ملاقات نہیں کر سکے تھے۔غالبار بوہ سے آنے کے بعد ان سے ملاقات نہیں ہوئی ، مجھے کہا کہ ایک بات کرنے کی خواہش تھی لیکن دس بارہ سال ہو گئے ہیں، وہ خواہش دل میں لے کر بیٹھا ہوا ہوں اور ملاقات ہی نہیں ہورہی تھی۔اب خدا نے موقع دیا ہے تو میں اب اپنے دل کا بوجھ اتارتا ہوں۔میں نے کہا وہ کیا بات ہے۔کوئی بہت ہی بڑی اہم بات ہو گی تو انہوں نے کہا آپ کو یاد ہے جب آپ شام کے وقت سائیکل پر آیا کرتے تھے اور اپنے باغ میں جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ جب آپ آئے تو میں آپ کے باغ میں سے گنڈ وئے نکال رہا تھا تو آپ نے کہا کہ تم کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کہ میں تو گنڈوئے نکالنے آیا ہوں لیکن جب آپ چلے گئے تو میں نے کہا جب گنڈ وئے نکالے ہیں تو ساتھ ہی آپ کے تالاب کی مچھلیاں بھی نکال لوں اور پھر دو مچھلیاں بھی نکال کر لے گیا۔اس کے بعد پھر آپ خلیفہ بن گئے تو پھر میں اتنا شرمندہ ہوا۔گویا کہ خلیفہ نہ ہوتا تو چوری جائز تھی۔اس وقت تک تکلیف نہیں ہوئی