خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 427

خطبات طاہر جلد ۱۲ 427 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء آخری دن جو اطلاع مجھے ملی وہ یہ تھی کہ بیعتیں خدا کے فضل سے 99 تک پہنچ چکی ہیں اور بعد میں پھر یہ اطلاع بھی ملی کہ اس سے بھی بڑھ گئی ہیں۔تو اللہ کا بہت فضل رہا اس پہلو سے یہ اجتماع بہت ہی کامیاب تھا۔صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ اور ان کے ساتھیوں نے بے حد محنت کی ہے اور لمبے عرصہ تک مسلسل انتھک محنت کے بعد خدا تعالیٰ نے اس اجتماع کو وہ رنگ لگائے کیونکہ محنت انسان کرتا ہے لیکن رنگ خدا ہی لگاتا ہے کہ ایک بہار کا سا منظر تھا، بہت ہی کامیاب اجتماع ہوا ہے۔اس کے ساتھ کبڈی کا ایک میچ بھی رکھا گیا تھا۔ایک نہیں کئی میچ تھے لیکن ایک میچ کو سیٹلائٹ کے ذریعہ عالمی طور پر دکھانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔اس سلسلہ میں بھی ایک دو باتیں میں بعد میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ہر اجتماع کے وقت یا ہر جلسے کے وقت ایک مستقل ذمہ داری یہ ہے کہ احباب جماعت سے ملاقاتیں کی جائیں، خاندانوں سے بھی ملاقاتیں ہوں اور بعض انفرادی ملاقاتیں بھی ہوں۔جہاں تک میرا تجربہ ہے یہ کام سب کاموں میں سب سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ جن لوگوں کی ملاقاتوں کی خواہش ہے اور ان کو مجبوراً وقت نہیں دیا جا سکتا ( یہ ایک بہت ہی تکلیف دہ فیصلہ ہوتا ہے ) تو پھر بسا اوقات ان کی طرف سے شکوؤں کے خطوط بھی ملتے ہیں جو بجا ہوتے ہیں کہ اتنی دیر سے ہم ملاقات نہیں کر سکے تھے اور اب یہ تمنا لے کر آئے تھے۔بعد میں پھر وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے یہ باتیں کرتے تھے، اس طرح خوش تھے اور آپ نے تو ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔پس ملاقات کی ایک مشکل تو یہ ہے کہ ناممکن ہے کہ سب کی خواہش کو پورا کیا جا سکے۔خصوصاً جہاں جرمنی جیسی جماعت ہو، خدا کے فضل سے یوں لگتا تھا جیسے ربوہ کا چھوٹا اجتماع ہورہا ہو اور پھر سب میں غیر معمولی جوش ، سب میں بہت تمنا کہ ذاتی ملاقات ہو سکے، ساتھ تصویر میں کھجوائی جائیں۔ایسے مواقع پر بہت کم لوگوں کی خواہش پوری کی جاتی ہے اور بہت زیادہ تعداد میں امیدوں پر پانی پھیرنا پڑتا ہے لیکن بے اختیاری ہے مگر اس بے اختیاری کے باوجود تکلیف رہتی ہے کیونکہ ایک انسان جس کی خواہش پوری نہ ہو سکے وہ اس وجہ سے تو خوش نہیں ہو جاتا کہ بے اختیاری تھی۔بے اختیاری اپنی جگہ اور تکلیف اپنی جگہ، یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔اس میں مشکل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اکثر ملاقاتوں کے دوران بعض لوگوں کے تکلیف دہ