خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد ۱۲ 426 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء اور اپنے آپ کو اس کے سپر د کر دو ، اپنے آپ کو کلیہ اللہ کے سپرد کر دو۔مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ اس سے پہلے کہ وہ عذاب تمہارے پاس آ جائے جو گناہوں کی شامت اعمال کے طور پر آیا کرتا ہے۔ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ پھر تمہیں کسی قسم کی کوئی مدد نہ دی جائے یا پھر تمہیں کسی قسم کی کوئی مدد نہ دی جائے گی۔کل ہی میں ہالینڈ اور جرمنی کے دورہ سے واپس آیا ہوں۔اس سفر کی غرض خصوصیت کے ساتھ جرمنی کے خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شرکت تھی اور اس کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ نے اور بھی دلچسپ پروگرام بنا رکھے تھے۔جن میں سے خصوصیت سے Bosnians کواکٹھا کر کےان کے ساتھ جماعت کا تعارف اور ان کے مسائل کے حل سے متعلق ان کی مدد کرنا شامل تھا۔اس پروگرام پر خدام نے اتنی محنت کی کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ جو تو قع تھی اس سے تقریبا دگنی تعداد میں بوسنین وہاں اکٹھے ہوئے یعنی دو ہزار کا اندازہ مجھے بتایا گیا تھا لیکن تقریباً ۴ ہزار بوسنین کو فرینکفرٹ کے اردگرد کے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے علاقے سے لے کر آئے۔ان میں سے بعض کے ساتھ انفرادی طور پر بھی ملنے کا موقع ملا اجتماعی طور پر بھی ان کے ساتھ گفتگو ہوئی ،سوال و جواب کی مجلس ہوئی ، ان کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھنے کی توفیق ملی اور ان کو مطلع کیا کہ ہم تمام دنیا میں آپ کے لئے کیا کر رہے ہیں۔تو یہ ایک بہت ہی دلچسپ پروگرام تھا۔اس کے علاوہ دو بلکہ تین مجالس سوال و جواب تھیں۔دو تو اردو میں تھیں اور وہ زیادہ تر خدام سے تعلق رکھتی تھیں۔یعنی خدام یا ان کے دوستوں کو موقع تھا کہ وہ جو چاہیں سوال کریں اور ایک بڑی وسیع مجلس تھی جس میں غیر مسلم اور غیر احمدی مسلمان بلائے گئے تھے۔یہ مجلس بھی اپنی نوعیت کی مجلس تھی اور جرمنی میں ہونے والی مجالس میں سب سے بڑی تھی اور پہلے تین ، چار سو تک مہمان آیا کرتے تھے۔لیکن اس میں خدا کے فضل سے ہزار سے زیادہ مہمان شامل ہوئے اور اس کے معا بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے 73 مدعوئین کو بیعت کی توفیق ملی اور اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔چنانچہ دوسرے دن پھر عربوں کے ساتھ ایک مختصر مجلس منعقد کی گئی اس میں جرمن اور دوسرے ترکی دوست بھی تھے لیکن زیادہ تر عرب مخاطب رہے کیونکہ وہی سوال کرتے رہے اور اس کے نتیجہ میں پھر 7 عربوں نے اور غالباً ایک دو بیچ میں ترک بھی شامل تھے جنہوں نے اسی رات بیعت کی اور پھر بعد میں اور بیعتیں وصول ہونی شروع ہوئیں یہاں تک کہ اس اجتماع کے