خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 413
خطبات طاہر جلد ۱۲ 413 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء آپ بے شک پانی گرنے دیں گھبرائیں نہیں اور نہ اُس طرف دیکھیں اب۔وہ جو وہاں تماشہ ہورہا ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے جو یہاں باتیں آپ سن رہے ہیں ان میں قیمت ہے۔اس لئے اصل یہ تربیت ہونی چاہئے آپ کی کہ کچھ بھی ہو جائے جو وہاں کے منتظمین کا کام ہے کہ وہ سنبھالیں۔جب چھوٹی سی بات کے اوپر سب گردنیں موڑ موڑ کر ایک واقعہ کی طرف دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ایک آواز پر کان دھرتے ہیں تو کان تو دو ہی ہیں۔اچھی آواز کو چھوڑ کر ایک بے معنی آواز کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔یہ جو طریق کا رہے حکمت کا طریق نہیں ہے، مومنانہ طریق نہیں ہے، نظم وضبط پیدا کریں۔مجھے یاد ہے ایک واقعہ تاریخ میں پڑھا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ نے ہاتھی کا کھیل دیکھا۔ساتھ اس کے اردگرد اس کے سپاہی بھی کھڑے تھے اور ایک راجپوتوں کا دستہ بھی آیا ہوا تھا۔مغل بادشاہ کا ہاتھی مست ہو گیا اور وہ مختلف سمتوں میں دوڑنے لگا جب وہ اُس کے اپنے سپاہیوں کی طرف دوڑا تو تتر بتر ہوئے اور گھبرا کے پیچھے ہٹ گئے۔جب راجپوتوں کی طرف بڑھا تو اُن میں ایک نے بھی پیچھے قدم نہیں اٹھایا اور تیار تھے کہ جس کے اوپر سے ہاتھی گزر جائے بے شک گزر جائے۔اس کیفیت کو دیکھ کر بادشاہ کو یہ سبق ملا فوجی تربیت کے لحاظ سے ہم اس ملک سے ابھی بہت پیچھے ہیں جس کو ہم فتح کر چکے ہیں۔پس احمدیوں کو نظم و ضبط اور اعلی کردار کا ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ کوئی بھی افراتفری ہو کوئی واقعہ ہو۔جن کا تعلق ہے وہ نظر ڈالیں۔باقیوں کو کوئی پروانہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے؟ پس ایک وقتی انحراف کے بعد دوسرے مضمون کی طرف جانا پڑا۔اب اصل مضمون کی طرف پھر واپس آتا ہوں۔جب تربیت کے متعلق یہ معلوم کر لیا کہ کس مجلس یا کس جماعت میں تربیت کی کیا کیا خرابی ہے؟ تو اکٹھا سارے سال کا پروگرام دینا بے فائدہ ہوتا ہے۔اگر آپ سارے سال کا پروگرام ساری جماعتوں کو اکٹھا بھیج دیں گے تو وہاں کے کام کرنے والوں کی اکثر صورتوں میں صلاحیت ہی نہیں ہوگی کہ وہ کام کو جتماعی طور پر سمجھ سکیں اور خود اس کوٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ کر اتنا کام کریں جتنا اُن کی طاقت میں ہے۔وہ گھبرا جاتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اتنے بڑے کام ہم نے کرنے ہیں اتنے آدمیوں کو نمازی بنانا ہے، اتنوں کی زبان درست کرنی ہے، اتنوں کے تعلقات ٹھیک کرنے ہیں، اتنے آزاد منش لوگوں کی آوارہ گردیاں ٹھیک کرنی ہے، اتنوں پر