خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 412

خطبات طاہر جلد ۱۲ 412 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء سے بہت بھاری اجتماع ہے۔جماعت جرمنی میں جب میں آغاز میں آیا تھا تو ہمارا جماعتی اجلاس مسجد فرینکفورٹ کے کونے میں ہوا تھا۔باقی مسجد خالی پڑی تھی۔اب آپ کے ایک کونے میں مسجد فرینکفورٹ آجاتی ہے لیکن جتنی برکت ہے اتنی کام کی ذمہ داریاں بھی تو بڑھ گئی ہیں۔اتنی زیادہ تفصیلی جائزے کی ضرورت ہے اور گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جماعت میں کون کون سی کمزوریاں ہیں ان کو کیسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔اب مثلاً اگلا قدم لیتے ہیں۔جب ایک سیکرٹری تربیت جائزہ لیتا ہے تو سب سے پہلے تو یہ محسوس کرے گا کہ میں اس کام کے لئے کافی نہیں ہوں۔میرے دو ہاتھ اتنے بڑے کام نہیں کر سکتے۔میں نے دنیا میں اپنے اور بھی کام کرنے ہیں۔جتنا وقت میں جماعت کے لئے نکال سکتا ہوں ، دیتا ہوں۔اُس کے باوجود یہ ناممکن ہے کہ میں ہر مجلس یا ہر جماعت کی تفصیلی نگرانی کر سکوں۔اس وقت وہ دعا اُس کے کام آئے گی جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اے خدا ! اپنی جناب سے سلطان نصیر عطا فرما اور پھر جب نظر ڈالے گا تو سلطان نصیر دکھائی دینے لگیں گے۔ایسے کارکن اُس کے سامنے آئیں گے جو پہلے اُس سے دین کی خدمت میں کوئی مقام نہ بنا سکے۔بطور خادمِ دین کے اُن کا شمار نہیں ہوتا لیکن جب پیار اور محبت سے، دعا کے بعد اُن کے سر پر ہاتھ رکھا جائے ، اُن کو کہا جائے ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اللہ کی تحریک کے نتیجہ میں وہ مدد کے لئے تیار ہوتے ہیں اور اس طرح ہر شعبے کی ٹیم بنی شروع ہو جاتی ہے۔ایک ہاتھ ایک نہیں رہتا بلکہ اُس کے ساتھ دس پندرہ ، ہیں ایسے مخلصین اکٹھے ہو جاتے ہیں جو اُس کام میں اُس سیکرٹری کے مددگار بن جاتے ہیں۔پھر وہ سنبھالتے ہیں مختلف ریجنز بنا کر سنبھالتے ہیں، مختلف علاقوں کو آپس میں تقسیم کر کے یا جو بھی طریقے کار ہو، آپس میں ایک دوسرے کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور مل کر پھر وہ ایک تفصیلی جائزہ تیار کرتے ہیں۔جو چارٹوں کی صورت میں اُن کے دفتر کے سامنے آویزاں رہتا ہے۔اُن سے جب پوچھو آپ کی جماعت میں تربیتی لحاظ سے نماز کس جگہ ہے؟ تو وہ فوری طور پر بتا سکتے ہیں کہ فلاں علاقے میں نماز کی یہ کیفیت ، فلاں علاقے میں یہ کیفیت ہے، فلاں میں یہ ہے۔جب ہم نے چارج لیا تھا تو سو میں سے پچاس یا ستر تھے جو نماز پڑھا کرتے تھے اب اتنے مہینے کی کوششوں سے ہر مہینے میں ہم نظر رکھ رہے ہیں۔خدا کے فضل سے پانچ اور دس اور میں اس طرح شامل ہوتے ہوتے اب تقریباً ساری جماعت نماز با جماعت شروع کر چکی ہے۔،