خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 409 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 409

خطبات طاہر جلد ۱۲ 409 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء الہی اعلان کے سامنے لوگ سر تسلیم خم نہیں کر رہے، استجابت نہیں ہو رہی۔اپنی طرف سے تو یہ چاہتے ہیں کہ جب دعا مانگے خدا قبول کرلے لیکن جب خدا کی آواز کانوں میں پڑتی ہے نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ تو وہ آواز بہرے کانوں پر پڑتی ہے، ایسے مرجھائے ہوئے دلوں پر پڑتی ہے جن میں قبول کرنے کی صلاحیت نہیں۔یہ بیماریاں دور ہوں گی تو پھر نماز قائم ہوگی۔اس کے بغیر کیسے قائم ہوسکتی ہے اور جب تک جماعت وار تشخیص نہ ہو، مجلس وار تشخیص نہ ہو کہ کس کس جماعت میں، کس کس مجلس میں کیا کیا کمزوریاں ہیں؟ کیوں ایسی کیفیت ہے اُس وقت تک صحیح علاج تجویز ہی نہیں ہوسکتا۔اب میں یہاں جانتا ہوں کہ جرمنی کے حالات میں بعض خاص علاقے ایسے ہیں جہاں پاکستان کے بعض علاقوں کے لوگ آئے ہوئے ہیں اور وہ اپنے علاقوں میں بھی بعض روحانی بیماریوں میں مبتلا تھے۔تربیت کے ضمن میں بعض علاقوں میں نماز کی کمزوری پائی جاتی تھی ، بعضوں میں زبان کی کمزوری ہے ، زبان کے تلخ ہیں، بدتمیزی سے بات کرتے ہیں، جلدی غصے میں آتے ہیں ، گالی دینے کی طرف میلان ہے اور ہر وہ حرکت کرتے ہیں زبان سے جو تعلقات کو کاٹنے والی ہے اور یہ عادتیں اُن میں راسخ ہوتی ہیں۔ایسے علاقوں کے لوگ بھی یہاں آئے ہوئے ہیں جو ہل چلاتے وقت روزانہ اپنے بیلوں کو بھی اتنی گندی گالیاں دیتے ہیں کہ اگر بیلوں کو پتا لگ جائے کہ کیا ہو رہا ہے تو وہ بغاوت کر دیں، اپنے پاؤں تلے اُن کو روند ڈالیں لیکن وہ معصوم ہیں اُن کو پتا نہیں کہ ہم سے کیا ہو رہا ہے؟ انسان سے جب سلوک کرتے ہیں تو وہ جماعت جس نے عالمگیر جماعت بننا ہے جس نے ساری جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع کرنا ہے وہاں اگر ایسی زبان استعمال ہو رہی ہو جو دلوں کو کاٹ رہی ہو جو دھکے دے رہی ہو، جو بد تمیزی کی اور بداخلاقی کی زبان ہو۔تو وہ جماعت کو بھی منتشر کر دے گی کجا یہ کہ غیروں کو اپنی طرف سمیٹں تو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بہت گہرے اثرات والی باتیں ہیں۔ایسی تربیت کیسے ممکن ہے جس تربیت سے پہلے بیماری کا علم ہی نہ ہو۔پس سیکرٹری تربیت کا صرف ایک کام آپ پیش نظر رکھیں تو دیکھیں کتنا پھیلتا چلا جا رہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کے بس کی بات ہی نہیں لیکن سیکرٹری تربیت کی اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات کو دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرکلر دے کر فارغ ہو کر بیٹھ گیا اس کو پتا ہی نہیں کہ اُس نے اور کیا کرنا ہے؟ کام پہچانیں گے تو کام بڑھے گا اور جو کاموں کو پہچاننے کی عادت