خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 408

خطبات طاہر جلد ۱۲ 408 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء اب تربیت کے متعلق مثلاً میں نے جب پوچھا تو پتا چلا کہ اتنے سرکلر دیے گئے ہیں جماعت کو کہ فلاں فلاں خرابیاں ہیں ان کو دور کرو۔سوال یہ ہے کہ یہ خط جن کو ملتے تھے ، انہوں نے آگے حرکت کی بھی کہ نہیں، کتنوں پر اس کا اثر پڑا۔کون کون سی مجالس کس کس کمزوری میں مبتلا ہیں اور کون کون سی مجالس کس کس نصیحت کی محتاج ہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو تفصیلی جائزے کے بغیر معلوم ہو ہی نہیں سکتیں۔اس لئے سب خدمت کرنے والوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ سب سے پہلا قدم یہ اٹھا ئیں بلکہ قدم اٹھانے سے پہلے کہنا چاہئے۔قدم اٹھانے سے پہلے یہ کام کریں کہ اپنا زیرو پوائنٹ مقرر کریں۔جس منزل سے سفر شروع کیا ہے اُس منزل کی تشخیص کریں۔اُس کی تفصیل سے آگاہ ہوں جب میں یہ کہتا ہوں تو آپ کو غالباً کئی مہینے اس تشخیص کے لئے درکار ہوں گے لیکن یہ وقت کا ضیاع نہیں ہے۔اس کے بغیر کام حقیقت میں ہو ہی نہیں سکتا۔مثلا تربیت والا سیکرٹری یا تربیت والی سیکرٹری خواہ مجلس سے تعلق رکھتے ہوں یا جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔جب تک جماعت کے حساب سے ہر جماعت کے متعلق اُن کو یہ علم نہ ہو کہ کتنے مرد، کتنی عورتیں ، کتنے بچے نماز با قاعدہ پڑھتے ہیں؟ کتنے ہیں جن کو نماز کے الفاظ صحیح یاد ہیں؟ کتنے ہیں جن کو نماز کا ترجمہ یاد ہے؟ اور نماز کے معاملے میں کیا کیا غفلتیں پائی جاتی ہیں۔کون سے ایسے مسائل ہیں جن سے وہ آگاہ نہیں ہیں اور کس حد تک ان معاملات میں ان کی تربیت کی ضرورت ہے۔کتنے خدام یا انصار یا بچے ایسے ہیں جن کو مساجد تک رسائی ہے اور وہ کسی نہ کسی نماز میں مسجد میں پہنچ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ کتنے ایسے ہیں جن کے پاس کوئی باجماعت نماز پڑھنے کا انتظام نہیں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔یہ سارے امور ایسے ہیں جن کی تفصیلی چھان بین کئے بغیر کوئی سیکرٹری تربیت اپنے فرائض کو سر انجام نہیں دے سکتا۔بجائے اس کے کہ یہ سرکلر بھیجا جائے کہ آپ نماز میں ٹھیک کریں۔وہ سرکلر جس کے پاس جائے گا اُس کو سلیقہ نہیں ہو گا کہ کام کیسے کرنا ہے؟ وہ سرکر دیکھے گا اور اپنی میز پر کسی جگہ رکھ دے گا یا کہیں اعلان کر دے گا کہ نمازیں پڑھا کرو۔یہ اعلان تو چودہ سو سال پہلے سے ہو چکا ہے کہ نمازیں پڑھا کرو۔اس کی کیا اطلاع مسلمانوں کو اب تک نہیں پہنچی۔اعلان سے کیا فائدہ؟ اس اعلان کو نظر انداز کرنے والوں کی کمزوریوں کو پہچانا جائے۔ان بیماریوں کی تشخیص کی جائے جن کے نتیجے میں اس