خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 407
خطبات طاہر جلد ۱۲ 407 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء جماعتوں نے اُن باتوں کو سمجھا اور اللہ کے فضل کے ساتھ اچھا جواب دیا، عملی جواب دیا اور ایسی رپورٹیں ملیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اُن میں اب کام کا سلیقہ پیدا ہو چکا ہے لیکن بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ پوری طرح خبر نہیں پہنچی۔پس اگر وہ بات نہیں سنتے تو التفات دگنا ہونا چاہئے ، بار بار مجھے کہنا ہوگا۔مجلس خدام الاحمدیہ کے حوالے سے جو باتیں میں کروں گا اُن کا تعلق محض دیگر تنظیموں سے ہی نہیں جماعت احمدیہ کی انتظامیہ سے بالعموم بھی ہے تمام اس لحاظ سے میرے مخاطب ہیں۔جب کسی احمدی کے سپر د کوئی عہدہ کیا جاتا ہے تو سب سے پہلا اُس کا فرض ہے کہ اُس عہدے کو پہچانیں۔معلوم تو کرے کہ وہ عہدہ ہے کیا؟ کل اور پرسوں جو ملاقاتیں ہوئیں تنظیموں سے باتیں ہوئیں۔اُن سے مجھے اندازہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ جرمنی کی جماعت خدا کے فضل سے بہت ترقی یافتہ جماعت ہے یعنی خدمت کے کاموں میں پیش پیش ہے لیکن مجالس عاملہ کو خود اپنا شعور نہیں ہے اور مجلس عاملہ کے ہر ممبر کو خود اپنی ذات میں دائرہ کار کا پتا نہیں اور یہ پتا نہیں کہ کام کا آغاز کیسے کرنا ہے؟ تعلیم و تربیت کے سیکرٹری سے پوچھیں کہ آپ نے کیا کیا۔میں تو رپورٹوں میں ذکر کرتا ہوں یا کرتی ہوں۔میں نے اتنے دورے کئے فلاں جگہ ہم گئے اور یہ کام کیا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ تربیتی مسائل اور تعلیمی مسائل بہت گہرے، بہت وسیع ہیں اور جس شخص کے سپرد یہ کام کیا جاتا ہے جب تک وہ مسائل کی کنہ سے واقف نہ ہو جائے ، اُن کی تہہ تک نہ اتر جائے ، وہ تفصیل سے یہ نہ دیکھے کہ مسائل ہیں کیا اور کہاں کہاں کیا کیا مسائل ہیں؟ اُس وقت تک وہ حقیقت میں خدمت کا حق ادا نہیں کر سکتا۔خواہش بھی ہوگی ، شوق بھی ہوگا، وقت بھی قربان کر رہا ہو گا لیکن نتیجہ نہیں نکلے گا۔نتیجہ نکلنے کے لئے ایک سلیقہ چاہئے، نتیجہ نکلنے کے لئے حکمت چاہئے ، قرآن کریم نے ہر جگہ جہاں بھی دعوت الی اللہ کا ذکر فرمایا ہے وہاں حکمت کے مضمون کو بیان فرمایا ہے۔حکمت کا ایک معنی ہے منصوبہ بندی۔حکمت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے خوب جانچا جائے، دیکھا جائے ماحول کو خوب پہچانا جائے۔یہ معلوم کیا جائے کہ کوئی چیز کہاں پڑی ہوئی ہے؟ کون سے رستے معین ہو سکتے ہیں ؟ ، کہاں کہاں ٹھوکریں ہیں؟ ، پوری طرح جائزے کے بغیر، پوری طرح اعداد و شمار اکٹھے کئے بغیر، کوئی منصوبہ کارفرما نہیں ہوسکتا، کوئی منصوبہ بن ہی نہیں سکتا۔