خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 406
خطبات طاہر جلد ۱۲ 406 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء اندرایسی پاک تبدیلیاں کرنا محض اللہ کا کام تھا۔پس جب وہ خط پڑھتے ہوئے جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔مجھے حسرت کا وہ شعر یاد آ گیا کہ حقیقت کھل گئی حسرت تیرے ترک محبت کی تجھے تو وہ پہلے سے بڑھ کر یاد آتے ہیں پس بجائے اس کے کہ یہ رشتے کم ہوں یہ مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کے دلوں کو اسی طرح محبت کے رشتوں میں مضبوطی سے باندھے رکھے کیونکہ جماعت نام ہے محبت کے رشتوں میں بندھے ہونے کا اور جمعہ کی یہ برکت ہمیں دلوں کو باندھنے کی صورت میں ملی ہے خدا اس برکت کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے۔اب میں تنظیمی امور سے متعلق مجلس خدام الاحمدیہ مجلس انصار اللہ اور مجلس لجنہ اماءاللہ سے مخاطب ہوتا ہوں جو باتیں میں اب آپ سے کہوں گا اُن کا تعلق طریق کار سے ہے اور میں نے محسوس کیا ہے کہ اس کی بہت ضرورت ہے کہ بار بار اس موضوع پر خطبات دیئے جائیں اور جماعت کو سمجھایا جائے کہ کام کرنا کیسے ہے؟ جوش اور ولولہ اور شوق اور محبت تو محض ایندھن ہیں اس ایندھن کی طاقت کو استعمال کیسے کرنا ہے؟ یہ کلیں ایجاد کرنے سے ہوتا ہے ورنہ جاہل قوموں کے پاس بھی بڑی بڑی طاقتیں ہیں، ترقی یافتہ قو میں اُن سے طاقت لے کر اپنے کل پرزے چلاتی ہیں اُن کو توفیق نہیں ملتی۔پس نظام جماعت کا تعلق بھی ایک ترقی یافتہ مشین یا ترقی یافتہ کل سے ہے جو روحانی نظام کو جاری وساری کرتی ہے، روحانی نظام کو چلاتی ہے، اس کل پرزے کو چلانے کا سلیقہ آنا چاہئے۔یہ کارخانه حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لفظ استعمال فرمایا کہ یہ کارخانہ ہے جو خدا تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے پس خدا نے بہترین، جدید ترین کارخانه تو عطا فرما دیا اسے چلانے کے لئے سلیقہ بھی تو چاہئے۔اگر طاقت ہو اور کارخانہ موجود ہو اور سلیقہ موجود نہ ہو۔تب بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔میں نے جب مجالس عاملہ سے انٹرویو لئے تو میں نے محسوس کیا کہ بہت سی باتوں میں ابھی علم کی کمی نقصان پہنچا رہی ہے اور جماعت میں جتنی کام کی طاقت ہے اُس سے پوری طرح فائدہ نہیں ہورہا۔اس ضمن میں نظام جماعت سے متعلق بھی میں نے گزشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا بعض شعبوں کو نمایاں پیش نظر رکھتے ہوئے نصیحتیں کی تھیں کہ ان شعبوں میں اس طرح کام ہونا چاہئے۔بعض دنیا کی