خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 405

خطبات طاہر جلد ۱۲ 405 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء ربوہ سے بھی کافی دور الفضل کے ذریعے خطبات بھی کبھی وقت پر نہیں ملتے تھے ڈاک والوں کا دل ہے چار پانچ اخبار ا کٹھے کر کے دیئے۔آگے پیچھے کی تاریخوں کا اخبار ملنے سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔آپ کو دیکھنے اور ملنے کی آرزو دل میں گھٹی رہتی تھی۔محترمہ امتہ الباری صاحبہ کا یہ شعر ہر وقت میرے دل میں رہتا تھا کہ بے بسی دیکھو کیسٹ سے انہیں سنتے ہیں سامنے میز پر تصویر پڑی رہتی ہے اب تو جمعہ والا دن عید کا دن لگتا ہے ی تفصیل ان کیفیات کی تمام تر بیان کرنی ممکن تو نہیں ہے مگر میں چند نمونے احباب جرمنی کے سامنے اس لئے رکھ رہا ہوں کہ اس قربانی میں سب سے بڑا حصہ جماعت احمد یہ جرمنی کو دینے کی توفیق ملی ہے۔پس وہ لوگ جو ڈش انٹینا والوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں وہ لوگ جو جسوال برادران کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اُن کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت احمد یہ جرمنی کو بھی اپنی دعاؤں میں خاص طور پر یا درکھیں کیونکہ بہت بڑی قربانی اس جماعت نے پیش کی اور میرے فکر دور کر دیئے جب مجھے یہ پیغام بھیجا کہ آپ اس پروگرام کو جاری رکھیں جتنا خرچ ہوتا ہے جماعت احمد یہ جرمنی اُسے پیش کرے گی اور ہر گز ہم اس معاملے میں قدم پیچھے نہیں ہٹا ئیں گے۔جو خرچ ہوتا ہے کرتے چلے جائیں اس پر وگرام کو ہمیشہ جاری رکھیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل جماعت جرمنی پر ہمیشہ جاری رکھے، ان کی نیک قدریں بڑھائے ، ان کی برائیوں کو دور کرتا چلا جائے، پہلے سے بہتر حال میں ان کو اپنے قریب تر کرتا چلا جائے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔مجھے تو یہ و ہم پیدا ہورہے تھے کہ وقتی جوش نہ ہو، وقتی شوق نہ ہو، پاکستان کے وہ احمدی دوست جور بوہ میں ہوں یا باہر ہوں اُن کو دیر سے ملنے کی خواہش تھی اس شوق سے کہیں چند دن آئیں اور پھر یہ رابطے کٹ جائیں۔جب اس بات کا میں نے خطبے میں اظہار کیا تو بہت احتجاجی خطوط ملے اور بعض نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ یہاں کیا کیفیت ہے؟ یہاں تو ہر خطبے کے بعد پیاس بڑھ جاتی ہے کم نہیں ہوتی اور اگلے خطبے کے انتظار میں دن گزارتے ہیں یہ جو جذ بہ ہے، کیفیت ہے یہ بنانی کسی بندے کے بس کی بات نہیں ہے۔یہ محض آسمان کی تقدیر ہے جو رحمت بن کر آسمان سے اتر رہی ہے۔دلوں کے