خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد ۱۲ 403 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء ہم اب احمدی ہوئے ہیں۔اس سے پہلے کا زمانہ جہالت میں گزرا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کسی بندے کا کمال نہیں ہے بلکہ غیر معمولی خدا کا فضل اور اُس کا غیر معمولی احسان ہے اُس کی ایک ایسی تقدیر ہے جو جاری ہوئی ہے جس کا ہمیں کوئی گمان میں نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ ان رابطوں کو بڑھاتا رہے اور مضبوط تر کرتا چلا جائے۔ایک سے زیادہ رابطے قائم کرنے کے سامان فرمائے اور اس طرح جماعت کی عالمگیر تربیت کی توفیق عطا ہو۔اس ضمن میں بعض پاکستان سے آنے والے خطوط کے اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جس سے آپ کو اُن لوگوں کے جذبات کا اندازہ ہو گا جن سے کئی سال ہوئے ملاقات نہیں ہو سکی۔ایک دن میں روزانہ بیسیوں خط ملتے ہیں یہ تو ناممکن ہے کہ سارے کے سارے خطوط کے مضامین سے جماعت کو آگاہ کر سکوں۔لیکن دو تین نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سیٹلائٹ کے ذریعے براہ راست خطبات سننے کی غرض سے ، ڈش انٹینا وغیرہ لگوانے کی غرض سے احباب غیر معمولی قربانی محبت اور شوق سے حصہ لے رہے ہیں۔ایک ضلع کے ایک گاؤں کی بچیوں کی شادی ایسے گاؤں میں ہوئی جہاں ڈش انٹینا کا انتظام نہیں تھا جبکہ اُن کے اپنے میکے میں یہ انتظام تھا تو وہاں جاتے ہی ان بچیوں نے سب سے پہلا یہ کام کیا کہ شادی کے تمام تحائف خرچ کر کے ڈش انٹینا کا انتظام کرایا اور اُن کا اپنا اس قربانی کے بعد تاثر یہ تھا جو خوشی شادی کی اس بات سے ہوئی ہے اس کے بغیر خوشی کا کوئی تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔پس احمدی بچیوں کے اندر بھی ایک ذاتی لگن پیدا ہوگئی ہے اور دلہنیں اپنے تحفے بیچ بیچ کر یا روپے پیش کر کے اس رابطے کا انتظام کر رہی ہیں اور ہمیشہ جو اطلاعیں ملتی ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ دن بدن زیادہ دیہات میں اور دیہات میں ایک سے زیادہ رابطوں کے سامان پیدا کئے جارہے ہیں۔ایک دلچسپ اقتباس ایک جماعت کی طرف سے ایک خاتون نے خط لکھا ہے ،اُس کا اقتباس ہے۔اب اللہ کے فضل سے ہمارے گاؤں میں جو ڈش انٹینا لگا ہے وہ ایک آدمی نے اپنے گھر لگوایا ہے اور وہ انٹینا بہت بڑا ہے پہلے تو سنا تھا کہ ہم سب اُن کے گھر میں جا کر خطبہ سنا کریں گے پھر انہوں نے یہ اعلان کروایا میں نے ایک ایسا پرزہ لگایا ہے کہ جس سے گاؤں کے ہر گھر میں بغیر انٹینا کے ٹیلی ویژن رابطہ قائم ہو گیا ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ اُس کے نتیجے میں نہ صرف احمدی بلکہ خدا کے فضل