خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 399
خطبات طاہر جلد ۱۲ 399 خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۹۳ء بیان فرمائی تھی۔صرف فرق یہ ہے کہ ایک موسیٰ کا ذکر تھا جو اولین دور پر زیادہ شان کے ساتھ پورا ہوا۔ایک عیسی نے ذکر کیا جومحمد رسول اللہ ﷺ کی احمدی شان کے ساتھ تعلق رکھتا تھا اور اس دور میں صلى الله اُس نے اطلاق پانا تھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺہے کے ساتھیوں میں سے بن جائیں، آپ کے اُن غلاموں میں سے بن جائیں جن میں محمدی شان جلوہ گر ہو۔یہ شان خواہ شدت کے ساتھ جلوہ گر ہو یا نرمی کے ساتھ یہ وہ شان ہے جو غالب آنے والی شان ہے جس شان کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔یہ وہ روئیدگی ہے جو چٹان کی سطح پر نہیں بلکہ گہری زرخیز زمین میں اس کی جڑیں ہیں اور وہ روئیدگی جو آپ کے چہرے پر اخلاق محمدی کے طور پر ظاہر ہوئی یہ وقتی تقاضوں سے مٹ نہیں سکے گی۔ہر ابتلا میں ، ہر مصیبت کے وقت یہ اُسی طرح قائم رہے گی کیونکہ اس کی جڑیں گہری، سرسبز زرخیز زمین میں واقع ہیں۔یہ جو تمثیل ہے اس کی تفصیل آئندہ انشاء اللہ خطبے میں میں پھر مزید بیان کروں گا تا کہ جماعت کو اپنے تشخص کا علم ہو جائے، یہ تو پتا چلے کہ جماعت احمد یہ ہے کیا؟ اس تشخص کے علم کے بغیر آپ کی صفات بن نہیں سکتیں۔آپ کے اندر جو صفات حسنہ ہونی چاہئیں اُن کا آپ کو علم نہیں ہوگا۔آپ میں کون؟ آپ کی ذات ہے کیا؟ یہ علم ضروری ہے اور یہ علم آپ کو ان آیات میں دیا گیا ہے۔اس تشخص کے بعد جب پھر آپ اپنے وجود کو دیکھیں گے، پھر آپ مواز نہ کرسکیں گے، پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ کسی حد تک وَالَّذِينَ مَعَةَ کہلانے کے مستحق ہیں اور کس حد تک اس تصور سے دور جا پڑے ہیں۔پس جتنا آپ اس تصور سے دور ہیں اتنا ہی روحانی انقلاب سے دور ہیں، اتنا ہی اُس فتح سے دور ہیں جس کا سورہ فتح میں وعدہ دیا گیا ہے، اتنا ہی اس الہی وعدہ سے دور ہیں جس کا ذکر آیت کے آخری حصے میں ملتا ہے کہ خدا نے اُن لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔اُن کو ضرور یہ ترقیات نصیب ہوں گی۔پس پہلے اپنے تشخص کو پہچانیں اور واضح طور پر دیکھیں کہ تشخص ہے کیا؟ پھر اُن فاصلوں کو کم کریں جو آپ کی عملی زندگی کے اس تشخص کی زندگی کے ساتھ ہیں جب آپ کی عملی زندگی اس تشخص کی زندگی سے انطباق پا جائے گی۔اگر جماعتی طور پر ایسا ہوا اور کثرت کے ساتھ احمدیوں کا تشخص اُن کی عملی زندگی کے ساتھ انطباق پا گیا تو وہ وقت ہو گا کہ ناممکن ہے کہ دنیا آپ کی ترقی کو روک سکے۔پھر تو لازماً