خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد ۱۲ 366 خطبه جمعه ۴ ارمئی ۱۹۹۳ء ہوئی ہے۔مائیں چھوٹی عمر سے ہی اس شوق میں کہ ہمارے بچے کی صحت اچھی ہو اس کو مالٹے کا جوس پلایا کرتی تھیں اور اب وسیع پیمانہ پر تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اکثر دمہ کی وجہ بچپن کی عمر میں پلایا ہوا یہی مالٹا ہے تو اس لئے کہ طیب نہیں تھا۔یعنی ایک اور بات یہ نکلی کہ عمر کے مطابق بھی پھر طیب کی احتیاط رکھنی ہو گی۔بعض چیزیں ایک عمر میں جا کر طبیب ہو سکتی ہیں ایک عمر میں طیب نہیں ہوتیں۔تو بہت ہی پیاری اور مکمل تعلیم ہے کہ یا يُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَللًا طَيِّبًا تمہارے لئے ہم نے بہت سے کھانے نکالے ہیں ان میں سے حلال کھاؤ یعنی وہ کھاؤ جس کی خدا نے اجازت دی ہے اور طیب کھاؤ یعنی وہ کھاؤ جس کی تمہارا نفس اجازت دیتا ہے۔جسے تمہارا نفس قبول کرتا ہے تو خدائی تعلیم کا اس طرح آپ تجزیہ کر کے دیکھیں تو و لنفسک علیک حق (بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر ۱۸۳۲) کا مضمون ہے جو یہاں بیان ہو گیا ہے ایک خدا کا حق ہے اس کو پیش نظر رکھنا۔ہرگز اس حق میں دخل اندازی نہ کرنا۔پھر تمہارے نفس کا حق ہے اس کو بھی پیش نظر رکھنا اگر ان دو باتوں کا خیال رکھو گے تو تمہاری صحتیں اچھی رہیں گی۔تمہارا معاشرہ اچھا رہے گا تم کئی قسم کی خرابیوں اور تکلیفوں سے بچ جاؤ گے۔حلال کا جو مضمون آج یہاں خصوصیت کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ لین دین کے معاملہ میں حلال کا مضمون ہے جو اس وقت میرے پیش نظر ہے۔وہ رزق جو رشوت کے ذریعہ حاصل کیا جائے، وہ رزق جو چور بازاری کے ذریعہ حاصل کیا جائے، وہ رزق جو کسی کے اوپر ظلم کر کے اس کا مال کھا کر حاصل کیا جائے ، وہ رزق جو چیزیں بیچتے ہوئے دھوکہ دے کر حاصل کیا جائے ، لین دین کے معاملات میں بد دیانتی کے ذریعہ حاصل کیا جائے ، غرضیکہ رزق حاصل کرنے کے بہت سے ایسے ذریعے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی رضا شامل نہیں ہوتی ان طریقوں سے رزق حاصل کریں تو خدا کی رضا سے عاری رزق ہو جائے گا بلکہ ناراضگی والا رزق ہوگا اور حلال کی تعریف میں یہ سب باتیں داخل ہیں کہ ایسا رزق کھاؤ جس کے حصول میں تم نے خدا کو ناراض نہ کر لیا ہو۔خدا کی تعلیم کے خلاف رزق نہ ہو۔یہ وہ پہلو ہے جس کے پیش نظر آپ جب آج کی دنیا کے مختلف ممالک کی اقتصادی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ رزق حرام کی طرف دنیا کی توجہ بڑھتی چلی جا رہی ہے ایسے ممالک جن میں اقتصادیات بظاہر صحت مند ہیں وہاں بھی جب چھان بین کی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ قومی مال کھانے کا رجحان پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔بڑی بڑی کمپنیاں ہیں جو دھوکہ دے