خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد ۱۲ 364 خطبه جمعه ۱۴ مئی ۱۹۹۳ء یہاں تمام بنی نوع انسان مخاطب ہیں اور قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ بسا اوقات يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کے ذریعہ خطاب فرماتا ہے اور اس میں خصوصیت سے امت محمدیہ پیش نظر ہوتی ہے اور بعض خطابات تمام بنی نوع انسان کو مشترک طور پر کئے جاتے ہیں اجتماعی حیثیت سے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ امور وہ ہیں جن کا فی الحقیقت ایمان سے تعلق نہیں ہے۔یہ تمام امور وہ ہیں جن کا بنیادی انسانی قدروں سے تعلق ہے اور ساری دنیا میں وہ قدریں مشترک ہیں۔اسی پہلو سے قرآن کریم کی آیات کا مطالعہ ایک حیرت انگیز فصاحت و بلاغت کا ایک جہان انسان کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے مگر یہ فصیل تو بہت لمبی ہے۔میں مختصر ا اس آیت سے متعلق کہنا چاہتا ہوں کہ رزق حلال کا انسانی معاشرے سے ایک گہرا تعلق ہے اور کوئی معاشرہ مذہب کا قائل ہو یا نہ ہو جب بھی کوئی معاشرہ رزق حلال سے ہٹ جاتا ہے اور حرام مال کی طلب پیدا ہو جاتی ہے اور حرام مال کھانے میں کوئی قباحت باقی نہیں رہتی تو وہ معاشرہ ضرور ذلیل ورسوا ہو جایا کرتا ہے اور وہ اقتصادی نظام کامیابی کے ساتھ اور صحت کے ساتھ چل نہیں سکتا۔اس کی مثال اشترا کی دنیا کے اقتصادی نظام کے طور پر سامنے رکھی جاسکتی ہے۔اشترا کی دنیا کی بنیاد ہی خدا کی نفی پر ہے اگر خدا کو تسلیم کر لیا جائے تو مارکس کا جدلی مادیت کا نظریہ بے معنی اور بے حقیقت ہو جاتا ہے اس لئے آغاز ہی میں اس نے خدا کا انکار کیا ہے اور عمد اسمجھ کر کیا ہے اگر انسان خدا کا قائل ہو تو پھر کسی انسان کو اقتصادی نظام دینے کا حق نہیں کہ جس نے پیدا کیا ہے پھر وہی حق رکھتا ہے کہ وہ اقتصادی نظام دنیا کے سامنے پیش کرے۔بہر حال یہ وہ معاشرہ ہے یہ وہ اقتصادی دنیا ہے جس کی بنیاد خدا کی نفی پر قائم کی گئی اور چونکہ رزق حلال کا تصور مٹ گیا اور رزق حلال کا گہرا رشتہ خدا کے تصور سے وابستہ ہے۔جہاں خدا کے تصور کو اقتصادی دنیا سے نکال دیں گے وہاں لازماً حرام رزق کی طرف رجحانات بڑھنے شروع ہوں گے اور ایسی سوسائٹی آخر کار حرام کھانے پر فتح ہو جایا کرتی ہے اور جہاں مذہبی دنیا میں آپ کو حرام مال کھانے کا ذوق شوق اور ولولہ دکھائی دیتا ہے بعض دفعہ غیر مذہبی دنیا سے بھی زیادہ آپ کو دکھائی دیتا ہے وہ اس بات کا مظہر ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔جس خدا پر یقین رکھنے کا دعوی ہے اس خدا پر کوئی یقین نہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے رزق حلال کے مضمون کو ساری قوم کی اخلاقی حالت کے ساتھ وابستہ کر کے بیان فرمایا ہے اور یہ ضروری ہے کہ انسان رزق حلال کمانے پر اور رزق حلال کھانے پر مضبوطی