خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد ۱۲ 359 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء انداز میں اور ان کے کپڑوں کے انداز میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ہر نظر اس کو پہچان سکتی ہے۔اگر آپ ان کے ماں باپ کو یہ کہیں کہ اس کے بال ایسے تھے تو ماں باپ بھڑک کر کہیں گے تم اس کے بالوں کے متعلق کچھ کہنے والے کون ہوتے ہو؟ اس کا حق ہے جس طرح مرضی رکھے۔آپ کہیں اس کے کپڑے ایسے تھے تو کہتے ہیں تم کون ہوتے ہو ایسا کہنے والے۔اپنی بیٹیوں کے کپڑے سنبھالو۔خبردار جو ہماری بیٹیوں کے کپڑوں پر بات کی۔یہ سمجھانے کا طریقہ نہیں ہے۔علامتیں سچی ہیں۔انہوں نے جو پیغام دیا وہ ضرور سچا ہے لیکن ماں باپ کو سمجھاتے وقت محبت اور ہمدردی اور گہرے درد کے ساتھ علیحدگی میں ان کو کہنا ہوگا کہ آپ اپنی بچیوں کی حفاظت کریں ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔آپ کا فکر ہے، آپ کو صدمہ پہنچے گا اور صرف ایک نہیں اور کئی انداز ہیں۔پھر ساتھ اس کے لئے دعائیں کرنے کی بڑی ضرورت ہے۔یہاں اجتماعات پر بھی مجھے بعض نوجوان خدام ایسے ملتے ہیں جو جماعتی کاموں میں نئے نئے شامل ہورہے ہوتے ہیں لیکن کسی کے کان میں بند الڑکا ہوتا ہے اور کسی کا آگے سے بٹن کھلا ہوتا ہے اور خاص طور پر بال دکھائے جار ہے ہیں اور امریکہ میں تو یہ بھی رواج ہے کہ اگر چھاتی پر بال نہ ہوں تو وگ لگ گئے ہیں۔نئی قسم کے وگ بن گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مردانگی کی ایک خاص علامت ہے۔مردانگی کی علامت کیا ہے اور کس کے لئے ہے؟ معصوم بچیوں کے لئے ہے۔ایک پیغام ہے کہ ہم حاضر ہیں۔ایک پیغام ہے کہ ہم تمہیں اُکسانے کے لئے بھی حاضر ہیں۔اب دیکھنے میں ایک چھوٹا سائندا ہے۔دیکھنے میں ایک بٹن کھلا ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے لیکن یہ سارے شیطان کے وہ بھیس ہیں جہاں شیطان عام آدمی کو دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر پہچاننے والی نظر ہو تو اس کو صاف دکھائی دیتا ہے۔اب ایسے شخص کو آپ کہہ دیں گے کہ جی !تم نے بند پہنا ہوا ہے۔وہ کہے گا۔تم پاگل ہو تمہاری مرضی ہے جو مرضی کرتے پھر و میں تو پہنوں گا۔بٹن کھلا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے تم بھی کھول لو۔ایسے جواب دیں گے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جن احمدی بچوں کو میں نے پیار سے درد کے ساتھ سمجھایا ہے وہ ضرور سمجھتے ہیں۔احمد یوں میں ایک خوبی ہے وہ خوبی یہ ہے کہ انہوں نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا ہے۔وقت کے امام کو مانا ہے اس لئے نیکی کی قبولیت کا جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔اس جذبہ سے جیسا فائدہ آپ اٹھا سکتے ہیں دنیا میں اور کوئی اصلاح کرنے والا ایسا فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ یہ جماعت