خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد ۱۲ 357 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء وارشاد، خدام الاحمدیہ، انصار اللہ وغیرہ سب مل کر مجموعی طور پر ایک مہم چلائیں اور اپنی بہنوں کو سمجھائیں۔اپنی بچیوں کو بتائیں کہ اس میں کیا کیا خطرات ہیں۔پردہ کے متعلق میں نے یہ معتین نہیں کیا کہ ضرور برقعہ پہنا جائے مگر یہ بتانا کہ بہت سے خطبات میں عمومی روشنی میں ڈال چکا ہوں۔پر دہ اور بے پردہ ان دونوں کے درمیان ایک فرق ہے اور وہ برقعہ یا برقعہ کا نہ ہونا نہیں ہے۔وہ فرق ایک رجحان کا فرق ہے اور صاف پہچانا جاتا ہے۔ایک لڑکی بعض دفعہ برقعہ میں بھی بے پرد ہوتی ہے اور دوسری لڑکی عام لباس میں بھی پردہ دار ہوتی ہے تو میں نے ان کو سمجھایا کہ جو رجحان ہے وہ دراصل حقیقت میں پردے سے آزادی کا رجحان ہے باقی بہانے ہیں کہ ہم برقعہ نہیں پہن سکتے جو نظر آرہا ہے وہ تو خطرات ہیں کہ ایک معاشرہ سے متاثر ہو کر سوسائٹی اس کے سامنے سجدہ ریز ہو چکی ہے یا اس سوسائٹی کے بعض لوگ سجدہ ریز ہو چکے ہیں اور پھر وہ بہانے ہیں کہ جی برقعہ میں بھی تو لوگ بے حیاء ہوتے ہیں ان کو پہلے آپ کیوں نہیں روکتے۔ہماری طرف آتے ہیں اور ہم یہن بھی نہیں سکتے اور اس قسم کی دوسری باتیں۔تو میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ بات وہ پیش کریں جس کا کوئی حقیقی جواب نہ ہو۔پردے کی روح کو قائم کرنے کا جہاد ہے اور ماں باپ کو سمجھائیں کہ اپنی بچیوں کو جب آپ کا لجوں میں بے پرد بھیجتے ہیں اور اسی طرح وہ ہیں جس طرح باقی معاشرہ ہے تو ان کو خطرات ہیں۔اس کے نقصان ہوں گے۔اس مہم کے جواب میں جو تلخ باتیں پیغام پہنچانے والوں کو منی پڑی ہیں اس کی تلخیاں با قاعدہ مجھے تک بھی پہنچتی تھیں اور یوں لگتا تھا جیسے انتقام لیا جا رہا ہے کہ اصلاح کی کوشش کیوں کی جارہی ہے تو ایک ہی پہلو جو پردے کا پہلو ہے اسی کے لئے اگر آپ جد و جہد کریں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ کتنے صبر کی ضرورت ہے۔ہر اچھی بات کے جواب میں ایک بری بات آپ کو منی پڑے گی کیونکہ جو شخص یہ فیصلہ کر چکا ہو کہ میں نے دنیا کی لذت یابی میں کسی دوسری قدر کی پرواہ نہیں کرنی۔میں نے اپنے مزے کی زندگی ضرور بسر کرنی ہے۔کون ہوتا ہے میری آزادی کو روکنے والا؟ جب آپ اس کی بھلائی کی باتیں اس سے کہتے ہیں تو وہ غصہ کرتا ہے۔وہ ناراض ہوتا ہے وہ آگے سے بھڑکتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میری آزادی پر بھی حملہ کیا گیا اور میری عزت پر بھی ہاتھ ڈالا گیا۔مجھے سمجھانے والا یہ ہوتا کون ہے؟ پس نصیحت کا کام بہت ہی مشکل کام ہے اور جتنا مشکل کام ہے اتنی ہی زیادہ حکمت اور سلیقے کی ضرورت ہے۔بات کہنے کے انداز میں فرق ہو جاتا ہے۔پس یہ نہیں ہے کہ محض ایک پیغام ہے جو