خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد ۱۲ 351 خطبہ جمعہ سرمئی ۱۹۹۳ء پر انسان سو جاتا ہے اور دشمن بیدار ہو جاتا ہے تو مضمون یہی ہے جو بیان ہوا ہے لیکن مذہبی اصطلاحوں میں وہ باتیں کی گئی ہیں۔پس آپ کو شیطان کے متعلق نگاہ رکھنی چاہئے کہ کہاں سے حملہ آور ہو گا ان باتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے میں نے ایک مثال دی ہے ایک آپ پر اور آپ کی نسلوں پر حملہ کرے گا کہ تم بالغ ہو چکے ہو آزاد ہو خدا کا قانون اب تمہیں پابند نہیں کر سکتا تمہاری خاندانی روایات کی اب کوئی قیمت نہیں رہی جو چاہو کرتے پھرو۔یہ جھوٹ ہے جس کے متعلق بچوں کو سمجھانا ضروری ہے یہ ایسا جھوٹ ہے جس کے متعلق بہت چھوٹی عمر سے بچوں متنبہ کرناضروری ہے اور سمجھا کر ان کو ہم خیال بنانا ضروری ہے ورنہ اگر پہلے سے ہی ان کی ذہنی تیاری آپ نے نہ کی تو وہ ہاتھ سے نکل چکے ہوں گے پھر وہ ان کی بات مانیں گے اور آپ کی رڈ کر دیں گے کیونکہ غیر کی بات میں ان کے نفس کی تمنائیں ساتھ شامل ہیں۔غیر وہ باتیں کرتا ہے جس کی طرف نفس کا رجحان اور بہاؤ ہے انسان اس طرف جانا چاہتا ہے جس طرف بلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف وہ ہے جہاں جانا نہیں چاہتا یعنی مشکل کام ہے۔بے لذت کام ہے ایک بوجھ ہے طبیعت پر اور جذبات کی کئی قسم کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔پس خلاصہ ہماری تربیت کے مسائل یہی ہیں ان پر مزید تفصیل کے ساتھ نظر رکھنا اور ہر سوسائٹی کی طرف سے جو خطرات درپیش ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر پیش بندی کرنا اور سوراخوں کو بند کرنا یہ رابطوا (ال عمران:۲۰۱) کے تحت قرآنی تعلیم ہے جس کے بڑے وسیع معنی ہیں یہ بھی پیغام ہے کہ جن جن ملکوں میں تم رہتے ہو اور جن جن سوسائٹیوں میں تم بستے ہو وہاں کے خصوصی خطرات کی نشاندہی کرو اور ان سوراخوں کو بند کر لو۔جہاں سے وہ خطرات داخل ہوا کرتے ہیں جیسے چوہوں کے بلوں کو بند کیا جاتا ہے جیسے ان سوراخوں کو بند کیا جاتا ہے جہاں سے سانپ بچھو داخل ہو جایا کرتے ہیں اسی طرح انسانی اخلاقی دنیا کا حال ہے یہ واقعہ جانور ہیں جو آیا کرتے ہیں۔فرضی باتیں نہیں ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ شیطانی نظام کن معنوں میں کس طرح وسعت پذیر ہے۔کہ ہر حال میں کسی نہ کسی طرح انسان تک پہنچ جاتا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی ایسا شیطان ظاہری طور پر الگ وجود ہے بھی یا نہیں یا ہر شیطان انسان کے نفس میں ہی ہے ان بحثوں سے الگ یہ بات قطعی ہے کہ شیطان ہے ضرور خواہ وہ خون میں دوڑ رہا ہو یا باہر سے حملے کر رہا ہو اس کے حملے دکھائی دیتے ہیں اور نظر آتے ہیں اس کے وسوسے انسان ہر روزسنتا ہے اور ہر روز اکثر ان کے حق میں جواب بھی دے دیتا ہے، ہر