خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد ۱۲ 347 خطبہ جمعہ ۷رمئی ۱۹۹۳ء پڑے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز پڑھو تو ان کے چہرے پر جو رد عمل ہے اس کا مطالعہ کر کے دیکھیں بعض ایسے رد عمل ہوں گے کہ جو پڑھ کر والدین کے ہوش اڑ جانے چاہئیں کیونکہ وہ ان کی قطعی ہلاکت کی خبر دے رہے ہوں گے وہ وہاں سے ایسی بیزاری سے اٹھیں گے کہ کیا عذاب ، کیا مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔ہم جب کوئی پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آواز پڑ جاتی ہے کہ اٹھو جی نماز پڑھو یہ کروتو وہ کرو۔یہ رد عمل بعض دفعہ دبا ہوا صرف اداؤں سے معلوم ہوتا ہے بعض دفعہ لفظوں سے ظاہر ہو جاتا ہے اور ایسے بچے انتظار کرتے ہیں کہ جب بھی ماں باپ کے دائرہ اثر سے باہر جائیں تو پھر اپنی مرضی کے رستے تلاش کریں اپنی مرضی کی دلچسپیوں میں حصہ لیں اور یہ جو ہلاکت ہے یہ سب سے زیادہ مغرب میں ہماری نسلوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہی ہے اور یہ وہ ہلاکت ہے جو سب سے زیادہ امریکہ میں پل رہی ہے اور وہاں سے پھر باقی ممالک کو ایکسپورٹ ہوتی ہے۔نئی دنیا نے نعیش کے جتنے ذرائع ایجاد کئے ہیں ان کی پیداوار کی سب سے بڑی منڈی امریکہ ہے اس منڈی سے یہ مال ہول سیل خرید کر پھر غیر ممالک کو بھیجا جاتا ہے۔میں نے یہ بات جو چند لفظوں میں بیان کی ہے اس پر آپ غور کر کے دیکھیں تو تمام تفاصیل میں یہ بات درست نکلے گی۔پس امریکہ جیسے ملک میں رہتے ہوئے جب آپ اجتماعات منعقد کرتے ہیں، انصار کے ہوں یا لجنہ کے یا کسی اور کے تو دیکھنا یہ ہے کہ ان اجتماعات سے آپ کو باقی رہنے والا کیا فائدہ حاصل ہوا۔تمام دوسری تقریریں جو مختلف موضوعات پر ہیں وہ اچھی ہوں گی لیکن سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ میں رہتے ہوئے اخلاقی قدروں کو جو خطرات درپیش ہیں، ہماری آئندہ نسلوں کو جو خطرات درپیش ہیں ان کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے سب سے زیادہ زیر بحث لایا جائے اور اس کے متعلق ذرائع اختیار کئے جائیں تدبیریں سوچی جائیں ان پر دائما عمل کرنے کے منصوبے بنائے جائیں اور پھر وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کا انتظام بنایا اور نافذ کیا جائے۔یہ سارے انتظامات جن کا میں ذکر کر رہا ہوں ان کا خلاصہ وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ قرب الہی کی کوشش کی جائے اور نمازوں کو قائم کیا جائے اور نمازوں کو قائم کرنے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نماز میں ایسی لذت پیدا کرنا ضروری ہے یا نماز سے ایسا تعلق باندھنا ضروری ہے کہ دیگر تعلقات اس کے مقابل پر بیچ ہو جائیں۔یہ اعلیٰ مقصد جب تک حاصل نہیں ہوتا نمازی محفوظ نہیں ہے کیونکہ