خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد ۱۲ 30 خطبه جمعه ۸/جنوری ۱۹۹۳ء بھی مجھے اتفاق ہے کہ انہی اصولوں پر معاملے طے ہونے چاہئیں مگر کریں کیا ہمارے عوام اس کوسن ہی نہیں سکتے ،عوام میں ان باتوں کی برداشت کی طاقت نہیں ہے۔میں نے کہا ہے یہ کیوں ہوا ہے اس لئے کہ ہیں ، میں، چالیس سال سے آپ لوگ یعنی قوم کے رہنما عوام کا مزاج بگاڑ رہے ہیں اس کی بیماریوں کی پرورش کر رہے ہیں اس کے مزاج کی اچھی صحت مند حالتوں کو اجاگر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔نبضوں پر ہاتھ رکھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک حکیم ہے جو نبض پر ہاتھ رکھتا ہے وہ اس لئے کہ نبض کا مزاج سمجھے اور بیمار مزاج کی اصلاح کی کوشش کرے اور ایک سیاستدان ہے جو قوم کی نبض پر انگلیاں رکھ دیتا ہے اس نیت سے کہ مزاج کو سمجھے اور بگڑے ہوئے مزاج کو اور ابھارے بالکل برعکس مقاصد کے لئے نبض دیکھی جاتی ہے اس وقت ہمارے غریب ملکوں میں یہی حال ہے کہ ہر سیاستدان سب سے بڑا قابل اور عیار اور شاطر سیاستدان وہ ہو گا جو قوم کی نبض بیمار سمجھ کر اس بیماری کو ابھارے اس کے ساتھ کھیلے اور اس کے نتیجہ میں اس بیماری کا پھل بن جائے ، اس بیماری سے طاقت حاصل کر کے وہ قوم کا رہنما بنے۔سیاست کے اس مزاج کی جب تک اصلاح نہیں کی جاتی ان کو سمجھایا نہیں جاتا کہ دیکھو ! ہم لوگ مارے جا رہے ہیں ، مظالم میں پیسے جا رہے ہیں۔ہمارے ہاں غربتیں بڑھ رہی ہیں ،سفا کی بڑھ رہی ہے ظلم بڑھ رہے ہیں۔ملک اقتصادی لحاظ سے جتنا جتنا نیچے گرے گا جرائم اتنا ہی زیادہ اوپر کی طرف بڑھیں گے کیونکہ یہ ایک طبعی قانون ہے جس کو آپ بدل نہیں سکتے اقتصادی گراوٹ کے نتیجہ میں لازما جرائم بڑھتے ہیں اقتصادی ترقی سے بھی بڑھتے ہیں مگر اور قسم کے لیکن جب قوم اقتصادی ترقی کا کچھ مزا دیکھ لے اور کچھ مزاج گندے ہو چکے ہوں تو پھر اقتصادی گراوٹ بہت تیزی کے ساتھ جرائم کی پرورش کرتی ہے۔پس آپ کا تو آوے کا آوا بگڑ چکا ہے یا اگر آج نہیں بگڑا تو بگڑ جائے گا، آثار بہت خطرناک ہیں ، یہ ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔پھر یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں کچھ اصول بنائیے معاملات حل کرنے سے پہلے آپس میں یہ تو فیصلہ کریں کہ ہم دنیا میں عدل کو قائم کریں گے اور جو بھی معاملات طے ہوں گے عدل کے اصول پر ہوں گے کیونکہ عدل کا اصول کسی بارڈر کے پاس جا کر رک نہیں جایا کرتا ، عدل ایک بین الاقوامی تصور ہے۔