خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 335

خطبات طاہر جلد ۱۲ 335 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء فاروقی، ڈاکٹر قاضی مسعود احمد صاحب جو آج کل شکاگو میں ہیں ان کے والد ہیں اور ان کی نسل بھی اللہ کے فضل سے احمدیت پر مضبوطی سے قائم ہے اور اکثر نیکیوں میں آگے آگے ہے۔پھر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نہیں جن کو شیر خدا کا لقب عطا ہوا۔انہوں نے مئی ۱۹۰۲ء میں بیعت کی تھی۔پھر مکرم امیر اللہ خان صاحب صحابی آف اسماعیلہ۔ان کی اولاد میں ایک کے سوا باقی سب خدا کے فضل سے مخلص احمدی ہیں۔ہمارے بشیر احمد خان رفیق صاحب جو امام صاحب کہلاتے ہیں ان کی بیگم کے دادا تھے۔دیگر بزرگان جن کی اولا د مخلص احمدی ہے یا اکثریت اللہ کے فضل سے اچھی مخلص احمدی ہے ان میں قاضی محمد شفیق صاحب ہیں، حضرت مولوی محمد الیاس صاحب ہیں جو ڈاکٹر حامد اللہ خاں صاحب کے دادا اور بشیر احمد خان رفیق صاحب کے نانا تھے، خان بہادر دلاور خان صاحب کا ذکر ہو چکا ہے،صاحبزادہ ہاشم جان صاحب مجددی ان کی ایک ہی بیٹی ہے وہ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور بڑی مخلص احمدی ہیں۔مرزا غلام حید ر صاحب ہمارے مرزا مقصود احمد صاحب وغیرہ کے والد تھے ، یہ مشہور خاندان ہے۔کرنل صاحبزادہ احمد خانصاحب ساکن مٹھا ضلع مردان، صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب بازید خیل، منشی محمد دانش مند خانصاحب جو بشیر رفیق خان صاحب کے والد تھے (فوت ہو چکے ہیں ، مکرم محمد اکرم خان صاحب درانی، ان کے بیٹے محمد ہاشم خان صاحب کے بیٹے کی شادی چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بیٹی سے ہوئی تھی۔فقیر محمد خان صاحب ایگزیکٹیوانجینئر خان بہادرمحمد علی خان صاحب بنگش آف کو ہاٹ ، مکرم محمد خواص خانصاحب آف رشکی جو ڈاکٹر سعید خانصاحب کے والد تھے، عبد القیوم خان صاحب آف شیخ محمدی، قاضی محمد جان صاحب آف ہوتی ، آدم خان صاحب جو سابق امیر ضلع مردان تھے ، اب بھی خدا کے فضل سے زندہ اور بہت ہی مخلص فدائی دین کا علم رکھنے والے بزرگ ہیں۔صوفی غلام محمد صاحب آف ڈیرہ اسماعیل خان صاحب، ان کی اولاد یہاں انگلستان میں موجود ہے۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب آف ٹوپی جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ہیں جن کی اولاد کا تعلق یا خلافت احمدیہ سے کٹ کر لاہوری جماعت سے ہو گیا یا سرکتے سرکتے وہ جماعت احمدیہ کے دائرہ سے باہر نکل گئے۔ان بزرگوں کی ایک لمبی فہرست ہے اور اس وقت وقت نہیں کہ میں وہ ساری فہرست پیش کر سکوں۔بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا ہماری تاریخ میں ذکر نہیں ملتا لیکن صوبہ سرحد کے سفر کے دوران