خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد ۱۲ 334 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء 66 خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس نسبت کے لحاظ سے باقی ہندوستان میں بااثر خاندانوں میں سے کم احمدی ہوئے ہیں۔(الفضل قادیان ۹؍ دسمبر ۱۹۴۴ء) احمدیت کی صوبہ سرحد میں تاریخ، جماعت احمدیہ کے آغاز کے ساتھ اکٹھی شروع ہوتی ہے پہلے صحابی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر ۱۸۸۹ء میں بیعت کی اور لدھیانہ کی بیعت میں شامل ہوئے ان کا نام حضرت مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب تنگے براہ تھا۔یہ تنگے براہ جگہ کا نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی نہ صرف بیعت لی بلکہ ان کو آگے بیعت لینے کی اجازت دی اور اپنا نمائندہ مقرر فرمایا کہ میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ میری نمائندگی میں میری بیعت لوگوں سے لیا کرو۔ان کے آگے کوئی اولاد نہیں تھی اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے روحانی اولا د کثرت سے عطا فرما دی اور جسمانی اولاد کی کمی اس طرح پوری ہوگئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی روحانی اولاد کے درمیان ایک واسطہ بن گئے۔دیگر صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں خان بہادر قاضی عبد القادر خان صاحب پشاور شہر کا ذکر بھی اہمیت رکھتا ہے۔آپ نے ۲۵ /اگست ۱۸۸۹ء میں بیعت کی۔بیعت لدھیانہ میں تو شامل نہیں ہوئے لیکن اسی سال بیعت کر لی۔قاضی محمد حسن صاحب ” خان العلماء جو پشاور شہر کے رئیس تھے اور وزیر افغانستان رہے ہیں ان کے یہ پوتے تھے۔خان بہادر قاضی عبد القادر خان ان کی اولاد کے متعلق ہمیں علم نہیں کہ کہاں گئی ، کیا ہوا؟ یہ سرحد کی جماعتوں کا کام ہے کہ ان کو تلاش کریں۔پھر حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب پشاوری ہیں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے خسر تھے۔حضرت قاضی عبد الرحمن صاحب محله باقر شاہ پشاور، حضرت مولانا غلام حسین خان صاحب کی بیعت ۷ ارمئی ۱۸۹۰ء کی ہے اور حضرت قاضی عبد الرحمن کی بیعت ۲۸ دسمبر ۱۸۹۰ء کی ہے۔پھر حضرت سید احمد شاہ صاحب میر بادشاہ صاحب پشاور ہیں۔انہوں نے ۲۰ فروری ۱۸۹۲ء کو بیعت کی۔پھر سید الشہداء حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔آپ نے دسمبر ۱۹۰۰ء میں بیعت کی۔پھر حضرت مولوی حبیب اللہ صاحب بانڈی ڈھونڈاں ایبٹ آباد بیعت اکتوبر ۱۹۰۱ء پھر حضرت مولوی محمد یحیی صاحب دیپ گراں ہزارہ بیعت ۱۹۰۶ء، یہ ڈاکٹر سعید احمد صاحب جو لاہوری جماعت کے موجودہ امیر ہیں ان کے والد تھے۔پھر قاضی محمد یوسف صاحب