خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 325
خطبات طاہر جلد ۱۲ 325 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء بیان فرما دیا گیا یعنی میزبان کو مہمان سے بڑھ کر مہمان کی عزت افزائی کا شوق ہے اور تمنا ہے اور وہ ضرور اس تمنا کو پورا کر کے رہے گا۔اس سلسلہ میں لفظ سمیا خاص توجہ کا محتاج ہے اس لئے میں نے وہاں اس کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ یہ ذکر کیا کہ ایسے لوگ جو نیک لوگوں کی اولاد ہوں مگر نمازوں کو ضائع کر دیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی شروع کر دیں وہ ضرور بالآخر غیا تک پہنچتے ہیں۔غیا کا ایک ترجمہ ”الضلال“ ہے یعنی گمراہی گویا ان کا گمراہی کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے پھر ہے ” الخیب“ وہ ضرور نا کامی کا منہ دیکھتے ہیں۔پھر اس کا ترجمہ ہے الانھماک فی الجهل بے وقوفی اور جہالت میں وہ اپنا وجود کھو دیتے ہیں یعنی کامل طور پر بے وقوفی اور جہالت کے ہو رہتے ہیں ، جہالتوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔پھر ہے الہلاک اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس وہ قومیں جن کا آغاز مذہبی ہو اور جن کا آغاز اللہ کے حضور تقویٰ کے ساتھ شروع ہوا ہو۔ان لوگوں کی اولادیں اگر نماز سے ہٹ جائیں اور نفسانی خواہشات کی پیروی شروع کر دیں تو یہ وہ انجام ہیں ، جن تک وہ ضرور پہنچیں گے۔اس دور میں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہم نے جماعتوں کے حالات کا جہاں تک مطالعہ کیا ہے اور غور کیا ہے۔یہ آیت ہر پہلو سے بلا شبہ صادق آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ نیک لوگ جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ خود ایمان لاتے ہیں اور سچائی کو قبول کرتے ہیں وہ شاذ و نادر کے طور پر ضائع ہوتے ہیں ورنہ ان کی بھاری اکثریت کامل وفا کے ساتھ آخر تک اس پیغام کے ساتھ چمٹی رہتی ہیں اور وہ ہر لمحہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں ان کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، کبھی آپ نے نہیں دیکھا ہوگا کہ انبیاء کی جماعتیں خود ضائع ہوگئی ہوں۔ہاں جب انبیاء کی جماعتیں گزر جاتی ہیں اور ان کی جگہ نئی نسلیں آجاتی ہیں تو وہاں سے خطرات شروع ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم نے یہاں قومی بقا کا فلسفہ بیان فرمایا ہے اور ان خطروں سے متنبہ کیا ہے جن کے نتیجہ میں قومیں بالآخر تنزل، جہالت، گمراہی اور جہل اور ہلاکت کا شکار ہو جایا کرتی ہیں۔پس وہ تمام جماعتیں جو آج ان اجتماعات میں تربیت کی غرض سے حاضر ہورہی ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور وہ تمام جماعتیں بھی جو اس خطبہ کوسن رہی ہیں ، ان کو میں خصوصیت کے ساتھ