خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 324

خطبات طاہر جلد ۱۲ 324 خطبه جمعه ۳۰ راپریل ۱۹۹۳ء ہے۔ان دونوں جگہوں میں جلسہ سالانہ منعقد ہورہا ہے، صوبہ سرحد کی جماعتوں کا تو چوتھا جلسہ سالانہ ہے اور یوگنڈا میں بھی جلسہ سالانہ ہے۔جماعت جرمنی میں مجلس شوریٰ ہو رہی ہے اور مجلس اطفال الاحمدیہ ضلع اٹک کا سالانہ تربیتی اجتماع ہو رہا ہے۔کل سے جماعت سپین کی مجلس شوری پیدرو آباد میں شروع ہوگی۔تو دو حصے ہیں ایک اجتماعات کا اور ایک شوری کا۔سب سے پہلے میں اجتماعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض نصیحتیں اُن احباب اور خواتین اور بچوں کوکرنی چاہتا ہوں جوان اجتماعات پر جمع ہوئے ہیں اور اسی حوالے سے دنیا بھر کی جماعتوں کو بھی وہی نصیحتیں ہیں اور اس کے بعد انشاء اللہ مجلس شوری سے متعلق چند اہم بنیادی امور پیش کروں گا۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا تعلق تربیت سے ہے اور تربیت کے ایک ایسے حصہ سے ہے جس کا قوموں کی زندگی اور بقا سے تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ وہ نیک لوگ تھے جنہوں نے اپنے پیچھے بعض ایسی اولادیں چھوڑیں۔جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا۔وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ اور شہوات کی اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے لگے۔فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا پس وہ عنقریب ضرور اس کا بد نتیجہ کیا کی صورت میں دیکھیں گے۔ہاں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو نیک لوگوں کی اولاد ہوئے اور پھر خود بھی تو بہ کی یعنی از سر نو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو تازہ کیا۔وَعَمِلَ صَالِحًا اور نیک اعمال کرتے ہوئے زندگی گزاری۔فَأُولَبِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ شَيْئًا یہ لوگ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی یعنی اعمال کی جزا میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔جَنَّتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ۔یہ پیشگی کی جنتیں ہیں ان جنتوں کا وعدہ رحمن خدا نے غیب سے اپنے بندوں سے فرمایا ہے۔اِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيَّا۔اور یقینا اللہ کا وعدہ ضرور لایا جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ جب خدا ایک وعدہ کر لیتا ہے تو جس سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس معاملہ میں بے اختیار اور بے بس ہو جاتا ہے اور خدا نے ضرور وعدہ پورا کر کے اس کے سامنے حاضر کر دینا ہے۔پس یہ جنتیں ایسی ہیں گویا ز بر دستی ان میں داخل کیا جائے گا۔یعنی خواہش تو ہر انسان کی ہوگی لیکن خواہش کرنے والے سے زیادہ اللہ کو ان کو جنتوں میں داخل کرنے کا شوق ہوگا۔یہ مضمون ہے جو ماتیا کے ذریعہ