خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد ۱۲ 300 خطبه جمعه ۶ اراپریل ۱۹۹۳ء مقاصد ہیں اور وہ مقاصد یہ ہیں کہ مرد اور عورت اور خاندانوں میں حسن معاشرت قائم کی جائے۔محبت اور رحمت کی فضائیں پیدا کی جائیں اور اس دنیا میں ایک جنت پیدا کر دی جائے ، جن لوگوں کو دنیا کی جنت نصیب ہو جاتی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں جس جنت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جن لوگوں کو وہ جنت اس دنیا میں نصیب ہو جاتی ہے ان کی اخروی جنت بھی یقینی ہے۔کوئی اس جنت کو اُن سے چھین نہیں سکتا۔جن کو اس دنیا کی جنت نصیب نہ ہو ان کو وہم ہے کہ ہم اگلی دنیا کی جنت میں جائیں گے۔آخر پر قرآن کریم کی پیش کردہ ایک اور مثال کو جو موازنہ کے طور پر پیش فرمائی گئی ہے آپ کے سامنے رکھ کر میں اس مضمون کو ختم کروں گا۔قرآن کریم نے دو ماؤں کی مثالیں پیش فرمائی ہیں۔ایک وہ ماں جس کی کوکھ سے فرعون پیدا ہوا تھا اور ایک وہ ماں جس کی کوکھ سے موسیٰ پیدا ہوا تھا۔جس ماں نے فرعون کو جنم دیا اس نے آنے والی ایک ایسی معصوم عورت کو بھی دنیاوی لحاظ سے عذاب میں مبتلا کر دیا جو پاکباز تھی۔جو خدا کے فرمودات پر اور اس کے بھیجے ہوؤں پر ایمان لانے والی تھی۔معصوم تھی ، نیک تھی۔مگر ساری زندگی فرعون کے ظلموں کے نیچے چکی میں پیسی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سے ہمدردی فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے وہ دعا سکھائی جس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم اور عذاب سے نجات پانے کے لئے اور جنت میں اپنے لئے الگ گھر طلب کرنے کے لئے تمنا کرتی تھی اور دوسری طرف موسیٰ کی وہ ماں تھی جس نے اسی زمانہ میں اس موسیٰ کو جنم دیا جس کے حسن خلق سے متاثر ہو کر مدین کے ایک گھاٹ پر لڑکی نے خود ایک تمنا کی کہ کاش اس سے میری شادی ہو جاتی لیکن شرمیلی طبیعت اور حیاء کے نتیجہ میں وہ یہ کہہ نہ سکی۔اپنے باپ کو اس نے صرف اتنا بتایا کہ اس طرح ایک واقعہ گزرا ہے کیوں نہ ایسے شخص کو ملازم رکھ لیا جائے۔ان کے والد بہت ذہین تھے وہ فوراً سمجھ گئے اور انہوں نے کہا ہاں ملازم تو رکھیں گے لیکن اس شرط پر کہ تم میں سے کسی ایک سے شادی ہو جائے اور وہ شادی ہوئی اور وہ حسن خلق اسی طرح جاری رہا۔چنانچہ قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے کہ اتنا آرام کا خیال تھا کہ چلتے چلتے دور پہاڑی کی چوٹی پر ایک آگ دکھائی دی تو اپنی اہلیہ سے یہ کہا کہ کیوں نہ میں اس آگ کی تلاش میں جاؤں تا کہ تمہیں آرام نصیب ہو اور ہم مل کر بیٹھ کر وہ آگ سینکیں۔قرآن کریم چونکہ بہت ہی عظیم اور بہت ہی وسیع مضامین کو بیان فرماتا ہے اس لئے جگہ کی