خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد ۱۲ 299 خطبه جمعه ۶ اراپریل ۱۹۹۳ء مضمون آسمان سے کسی کی گالیوں کا جواب ملنے کا جو مضمون ہے۔یہ بھی اس کے اندر بیان ہو گیا۔اپنے ماں باپ کو گالیاں نہ دو، میں ایک تو یہ معنی ہے کہ تمہارے ماں باپ کو دوسرے غصے سے گالیاں دیں گے۔دوسرا یہ کہ اگر دوسرا خاموش رہا تو آسمان بھی تمہارے ماں باپ کو گالیاں دے گا۔یہ بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے بیان فرمایا۔ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی مجلس میں موجود تھے۔ایک شخص آیا جس نے حضرت ابوبکر کے خلاف زیادتی شروع کر دی اور بہت ہی بدتمیزی سے کلام کیا یہاں تک کہ آخر حضرت ابو بکر" کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تو آپ نے اس کو جواباً کچھ سخت باتیں کہیں۔اسی وقت رسول اللہ یہ اس جگہ سے ناراضگی کے اظہار کے طور پر اٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت ابو بکر پیچھے دوڑے کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیا ہے کہ جب تک وہ مجھے گالیاں دیتا رہا۔آپ خاموش بیٹھے رہے اور جب میں نے جوابی کارروائی کی ہے تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کر چلے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا۔ابوبکر جب تک تم خاموش بیٹھے ہوئے تھے آسمان سے فرشتے تمہاری گالیوں کا جواب دے رہے تھے۔جب تم نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تو وہ فرشتے وہاں سے رخصت ہو گئے اور میں بھی اٹھ کھڑا ہوا۔(ابو داؤد کتاب الادب باب فی الانتصار ) حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے چھوٹی چھوٹی باتوں میں فیوض کے اور عرفان کے دریا بہارکھے ہیں۔ان چشموں سے کوئی فائدہ اٹھائے۔کوئی اپنے بدن اور روح کو پاک کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہو گا۔میں تو بہت نصیحت کر چکا ہوں لیکن افسوس کہ بیہودہ جہالت میں پیدا ہونے والی مائیں آئندہ اپنی جہالت کو اپنی اولاد در اولاد میں منتقل کرتی چلی جارہی ہیں۔ذرا ہوش نہیں کر رہیں کہ ان کی اپنی زندگی، ان کے بچوں کی زندگی ، آئندہ آنے والی نسلوں کی زندگی کو وہ اپنے وجود کی تلخیوں سے ہمیشہ کے لئے زہریلا کردیتی ہیں اور معاشرہ بگڑتا ہے تو اردگر دسارا ماحول بگڑتا ہے۔قوموں کے مزاج بگڑ جاتے ہیں اور یہی خاندانی بد تمیزیاں ہیں جو قو می بدتمیزیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔پس اس بات کو اہمیت دیں اور اپنے معاشرے کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی عائلی زندگی کے مطابق بنائیں تو گھر مودت اور رحمت سے بھر جائے گا۔قرآن کریم نے جو بات بیان فرمائی اسی پر ہر بات کی تان ٹوٹتی ہے کہ رشتے صرف اس غرض سے پیدا نہیں کئے گئے تھے کہ تَنتَشِرُونَ تا کہ تم پھیل جاؤ، وہ تو تم پھیل رہے ہو۔وہ مقصد تو پورا ہو گیا لیکن یاد رکھو اور بھی