خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 292

خطبات طاہر جلد ۱۲ 292 خطبہ جمعہ ۱۶ را پریل ۱۹۹۳ء گزشتہ کچھ عرصہ سے مجھ پر مختلف اطراف سے یہ محبت بھرا دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ میں جمعہ پر اس نکاح کو اس طرح شامل کرلوں کہ یہ بیک وقت تمام دنیا میں دیکھا اور سنا جانے والا نکاح بن جائے اور اس طرح اس تاریخ ساز سال کے کرشموں میں ایک اور اضافہ ہو لیکن طبیعت پر اس خیال سے یہ بات گراں گزرتی تھی کہ میری بیٹی ہے اور خود اسی کے ذریعہ اس سلسلہ کا آغاز کرنا شاید کسی دل پر گراں نہ گزرے لیکن باہر سے بھی ایسے خط آنے شروع ہوئے جن سے پتا چلتا ہے کہ وہ محبت کرنے والے احباب جماعت جو خواہش رکھتے ہیں کہ یہاں آئیں لیکن آ نہیں سکتے اُن کی خواہش ہے کہ اگر اس نکاح کو ایک عالمی نکاح بنا دیا جائے تو ہم جہاں جہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں وہاں اس نکاح کی خوشی میں شامل ہو جائیں گے چونکہ یہ پُر خلوص قلبی تعلق کا اظہار بھی ہے اور جماعت کا مجھ پر ایک حق بھی ہے۔ اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ آج کے خطبہ اور نمازوں کے بعد انشاء اللہ بین الاقوامی سلسلوں کے ذریعہ یہ عالمی نکاح بھی پڑھا جائے گا۔ لیکن اس سلسلہ میں ایک دو باتیں بیان کرنی ضروری ہیں۔ خطبہ جمعہ کے بعد نماز بہر حال لازم ہے۔ اس کے درمیان میں کوئی اور تقریب داخل نہیں کی جاسکتی اور نماز کے بعد آج کے حالات کے پیش نظر عصر کی نماز بھی ساتھ جمع کرنی ہوگی کیونکہ باہر سے بکثرت مہمان تشریف لائے ہوئے ہیں اور ان کو اب یہاں سے رخصت ہونا ہے، بقیہ کارروائی اسلام آباد جا کر ہو گی اور انتظامی دقتیں ایسی ہیں کہ ان کے پیش نظر مجھ سے یہی توقع رکھی گئی ہے کہ میں نماز جمعہ کے بعد عصر بھی جمع کرادوں ۔ پس خصوصیت سے یہ نصیحت ہے کہ اس نماز کے دوران دنیا میں کہیں بھی کوئی احمدی اس نماز کے ساتھ شامل ہو کر نماز ادا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ یہ ایک نہایت ہی بیہودہ رسم جاری ہو گی جس سے اسلام کی اعلیٰ پاکیزہ روایات میں رخنہ پڑنے کا خطرہ ہے۔ امام وہی ہے جو جسمانی طور پر بھی موجود ہو اور سامنے ہو ، سوائے اس کے کہ اتنا بڑا مجمع ہو کہ وہ امام دکھائی نہ دے سکتا ہو یا بیچ میں کہیں جس طرح بعض دفعہ دیواریں حائل ہو جایا کرتی ہیں یہ الگ بات ہے مگر اجتماع ایک جگہ ہونا ضروری ہے اور اس اجتماع کے سامنے ایک زندہ موجود امام کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر باقی سب نمازیں اگر دور سے ٹیلی کاسٹ کے ذریعہ پڑھی جائیں گی تو وہ فاسد ہوں گی ۔ اُن کا حضرت محمد مصطفی اللہ کی سنت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ عروسه