خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 289

خطبات طاہر جلد ۱۲ 289 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء عورتیں تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی گود میں اس کا بیٹا تھا بھیٹر یا آیا اور ان میں سے ایک لڑکے کو اچک کر بھاگ گیا ساتھی عورت نے اس کو بتایا کہ تمہارے لڑکے کو بھیڑیا لے گیا ہے۔اس عورت نے کہا کہ نہیں میرے لڑکے کو نہیں تمہارے لڑکے کو لے گیا ہے اور یہ بچہ ہی میرا ہے یہ بحث کرتی ہوئیں وہ حضرت داؤد کے دربار میں پہنچیں اور حضرت داؤڈ ان میں سے جو بڑی تھی اس کو وہ بیٹا دلوادیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمہارا تھا اس چھوٹی کا نہیں تھا۔وہ فریاد لے کر حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچی آپ نے جب ان دونوں عورتوں کو حاضر کیا اُن کے بیان سنے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انہیں واقعہ بتایا اور انہوں نے کہا چھری لاؤ میں برابر کھڑے کر کے اس بچے کو دونوں میں تقسیم کر دیتا ہوں آدھا وہ لے لے۔آدھا وہ لے لے۔چھوٹی عورت جس کا وہ بچہ تھا اس نے اذیت سے بے چین ہو کر بے اختیار پکار کر یہ کہا کہ نہیں نہیں یہ اس کا بچہ ہے میں جھوٹی تھی اس کو دے دیں اس بچے پر چھری نہ چلائیں اُسے بچہ عزیز تھا اس کا بیٹا تھا حضرت سلیمان نے اسی وقت وہ بچہ پکڑا اور اس کو پکڑا دیا کہ میں یہی تو پہچاننا چاہتا تھا کہ اصلی ماں کونسی ہے اور جھوٹی ماں کون سی ہے۔پس نظام جماعت سے اگر آپ کو زیادہ محبت ہے اور اپنی ذات اور اپنی انا سے زیادہ محبت نہیں تو ہر ایسے ابتلا کے موقع پر آپ ہمیشہ نظام جماعت کی حفاظت میں اپنی جان اپنی عزت اپنی آن ہر چیز کوقربان کر دیں گے لیکن کبھی ایسا کلام نہیں کریں گے کبھی ایسا طرز تکلم اختیار نہیں کریں گے خواہ ظاہری طور پر کہیں یا نہ کہیں یا اپنی حرکات و سکنات سے ایسا اثر نہیں ڈالیں گے کہ آپ نظام کے مارے ہوئے مظلوم ہیں تو سچے مگر جھوٹوں کا شکار ہو گئے ہیں۔جس کے نتیجہ میں لوگ نظام سے متنفر ہو جائیں اور نظام کا ٹا جائے اور جماعتیں دو نیم ہو جائیں۔پس پیشتر اس سے کہ جماعتیں دو نیم ہوں ان کے فعلوں کے وجہ سے وہ یہ زیادہ پسند کریں کہ ان کے جسموں کے ٹکڑے کر دے جائیں مگر نظام جماعت پر آنچ نہ آئے۔یہ سچے مومن بندے ہیں یہ ہیں جو مسلم ہیں جن کے اسلام کی خدا گواہی دیتا ہے اللہ تعالیٰ نظام جماعت کی حفاظت فرمائے اور ہمیشہ جماعت کو خدا کے بندے بنا کر زندہ رکھے شیطان کے بندے بننے میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔