خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 288
خطبات طاہر جلد ۱۲ 288 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء لیکن مجھے اختیار نہیں ہے اگر مجھے بخشش کا اختیار ہوتا تو میں ضرور بخشش کرتا۔تیری خاطر مجبور ہوں اس حالت میں وہ قدم اُٹھاتا ہے اور وہاں جماعت میں تعلی کے دو گروہ بن جاتے ہیں ایک کہتا ہے اب ہم نے الٹا دیا، ہم نے رپورٹ کی تھی ہمارے کہنے پر وہ مارا گیا اور دوسرا کہتا ہے کہ دیکھو! اب وہ بھی مارا گیا اور ہم نے یہ کوشش کی تھی۔یہ انسانیت کی باتیں نہیں ہیں مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔یہ گری ہوئی گھٹیا باتیں ہیں جس کا اس مٹی سے تعلق نہیں ہے جس مٹی سے آدم کو پیدا کیا گیا تھا اس مٹی سے کوئی تعلق نہیں جس کا معراج محمد رسول اللہ علیہ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔الله پس آنحضرت ﷺ کے غلام بن کر زندگی گزارنی ہے تو پھر سارے نظام اچھے ہیں خواہ وہ ذیلی نظام ہوں یا بنیادی نظام ہوں جماعت کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں اُن کو برکت دی جائے گی۔جہاں آپ کے انانیت کے جھگڑے شروع ہو جائیں گے جہاں کسی عہدہ سے ہٹنا یا کسی منصب سے معزولی آپ کو ابتلاء میں پھینک دے گی اور آپ اس امتحان میں نامراد و نا کام ٹھہریں گے وہیں سے آپ کا اللہ کے نظام سے اور اس نظام سے تعلق کاٹا جائے گا جو خدا نے اپنے دو ہاتھوں سے پیدا فرمایا ہے۔پہچان کے طور پر ایک آخری بات میں آپ کو بتادیتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کو کوئی صدمہ پہنچتا ہے اس کے سامنے دو تین قسم کے لائحہ عمل ہوتے ہیں اگر وہ ایسا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے کہ بظاہر وہ دنیا کی نظر میں ذلیل رہتا ہے مگر ایسی بات کوئی نہیں کرتا جس سے نظام کی تخفیف ہو اور نظام کو ٹھوکر لگے یا کچھ لوگ جو پہلے زیادہ مطبع تھے اب کم مطیع ہو جائیں تو ایسا شخص خدا کا بندہ ہے۔اللہ ضرور اس کی دلجوئی فرمائے گا اور اگر اصلاح کی خاطر نہیں بلکہ غلطی سے بھی اگر اس کے خلاف قدم اُٹھایا گیا ہے تو اللہ خود اس کی اصلاح فرما دے گا اور اس کو بہت درجات عطا فرمائے گا اور مگر ایسا شخص جب ایسا فیصلہ کرتا ہے کہ لوگوں کے دل جیتنے کے لئے اور ان کے سامنے اپنی عزت کو بحال کرنے کے لئے وہ ان سے اپنے شکوے شروع کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں وہ پہلے سے کم مطیع ہو جائیں گے، وہ جانتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ان کے اسلام کو خطرہ ہے اور یہ ٹھوکر کھا ئیں گے تو وہ شخص خدا کا بندہ نہیں صلى الله کہلا سکتا وہ اس مقام پر ہار گیا اور نامراد ٹھہر احضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اس مضمون کو ایک آیت کی تشریح میں بیان فرمایا ہے جس کا تعلق حضرت داؤڈ اور حضرت سلیمان سے ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں (ایک لمبی حدیث ہے اس کا میں وہ حصہ پڑھتا ہوں جس کا اس سے گہرا تعلق ہے ) کہ دو صلى الله