خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 287

خطبات طاہر جلد ۱۲ 287 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء فحشاء سے تعلق نہیں رکھتیں ان کا نظام جماعت سے تعلق نہیں ہوتا مگر ایسی غلطی جس سے نظام کی بے حرمتی ہو اور کوئی امیر ہوتے ہوئے نظام سے باہر قدم رکھے اور خلافت کے جو احکامات ہیں ان سے کھلم کھلا رو گردانی کرے تو خواہ وہ کسی بنا پر ہو غفلت یا لاعلمی کی بنا پر ہو جب یہ چیز ابھر کر جماعت کے سامنے آجائے تو اس کا احترام قائم کرنے کے لئے بعض دفعہ ان لوگوں کو ہٹانا پڑتا ہے۔ویسے اُن سے کوئی ناراضگی نہیں تھی میں جانتا ہوں کہ وہ نیک مخلص عاجز بندے ہیں لیکن ایک جگہ ٹھو کر کھا گئے اور میرے ذہن میں یہی تھا کہ کچھ عرصہ تک ان کو الگ رکھنا ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے اور جماعت کے مفاد میں ہے۔وہاں سے بعض خط آنے شروع ہو گئے کہ واقعہ ثابت ہو گیا ہے کہ آپ اللہ کے خلیفہ ہیں اس شخص میں یہ یہ باتیں تھیں، یہ باتیں تھیں مرے کو مارے شاہ مدار اس بیچارے کو گرا ہوا دیکھ کر اس پر ایسے ایسے حملے شروع کر دیئے کہ ان خطوں کو پڑھ کر ایسا میر ارد عمل ہوتا تھا جیسے طبیعت میں الٹی آتی ہے۔اپنی طرف سے مجھے داد دے رہے ہیں مجھے ایسی دادوں کی کیا ضرورت ہے مجھے پتا ہے کہ مجھے خدا نے مقرر فرمایا ہے۔مجھے کسی انسان کی داد کی ضرورت نہیں۔ایسی دادوں سے کراہت محسوس ہوتی ہے طبیعت متلانے لگتی ہے۔ایک فیصلہ میں نے بڑے دکھ سے کیا ہے بڑی مجبوری کی حالت میں کیا ہے اور تم اس پر مجھے داد دے رہے ہو اور کہہ رہے ہو کہ دیکھا ہم جیت گئے اور ایک صاحبہ نے لکھا کہ دیکھا میری فلاں فلاں خواب پوری ہوگئی۔میں نے اس شخص کی رعونت کے متعلق یہ خواب دیکھی تھی اور اس طرح خدا نے الٹایا اور آج میں یقین کرتی ہوں کہ آپ اللہ کے خلیفہ ہیں اور انہی میں سے ایک سے ایک ایسی غلطی ہوئی کہ میں نے اس کو بھی چند دن کے اندراندراپنے عہدہ سے ہٹا دیا۔اب خلافت کا وہ سارا بھرم کہاں گیا ؟ کیا وہ یہ سوچتا ہے کہ میں خلیفہ اللہ نہیں رہا۔پس یہ جاہلا نہ اور چھوٹی اور کمینی باتیں ہیں۔نظام جماعت کے متعلق جب خلیفہ اللہ کوئی فیصلہ کرتا ہے خواہ وہ براہ راست خلیفتہ اللہ کا ادنی غلام ہو اور اس حیثیت سے خلیفہ ہو تو وہ نفس کے کسی جذبہ سے مرعوب ہو کر نہیں کرتا اس کے اندر کبھی کوئی تعلی پیدا نہیں ہوتی کہ یوں مارا یا یوں الٹایا بلکہ اور زیادہ استغفار کرتا ہے اور زیادہ خدا کی راہ میں جھکتا ہے اور خدا کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور یہ عرض کرتا ہے کہ اے خدا ! میں بھی تو قابل نہیں ہوں۔میں یہ قدم اُٹھانے پر مجبور ہوں تو مالک ہے اس لئے تو اس سے زیادہ رحم کر