خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد ۱۲ 286 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء تقویٰ کا تقاضا ہے کہ آزمائش کے مقام پر ثابت قدم رہیں اور جب آزمائش کے مقام آئیں اور آپ کی عزت اور انا کچلی ہوئی دکھائی دے، جب کسی جماعتی فیصلہ کے نتیجہ میں آپ زخمی ہو جائیں اور آپ منہ چھپاتے پھریں کہ دنیا ہمیں کیا سمجھے گی کہ ہم تو اتنے بڑے بن کر جماعت میں ابھر رہے تھے اور آج ہمیں رسوا کر دیا گیا ہے آج ہم سے چندے لینے بند کر دیئے گئے ہیں آج ہمارے خلاف یہ اقدام کر دیا گیا ہے تو ہم کیا منہ دکھائیں گے۔پس وہ منہ دکھانے کے بدلے پھر اپنا گروہ تیار کرتے ہیں جماعت کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اپنے حق میں باتیں کرتے ہیں اور آغاز میں خلیفہ وقت پر حملہ نہیں کرتے کہتے ہیں کہ اس بیچارے کو کیا پتا وہ دور بیٹھا ہوا ہے یہ شیطان ہیں جنہوں نے جھوٹی باتیں پہنچائیں اور ان کی باتوں میں آکر یہ فیصلے ہو گئے اور اس طرح رفتہ رفتہ مقامی سطح پر دو گروہ بننے شروع ہو جاتے ہیں جو گر وہ نظام جماعت کی تائید میں ہیں ضروری نہیں کہ ان میں جماعت کے سارے شامل افراد پوری طرح محفوظ مقام پر ہوں ان میں سے بھی بعض تائید کرتے ہیں مگر جتھہ بندی کی خاطر اور اسلام کے نتیجہ میں نہیں چنانچہ ایسے لوگ بھی بعض دفعہ دوسری صورت میں آزمائے جاتے ہیں۔جہاد کرنا اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ہے جب تک جہاد خدا کی خاطر نہ ہو۔پس خدا کے بندے وہی ہیں جو نظام جماعت کی تائید کرتے ہیں۔اپنے ذاتی تعلقات، دوستیوں، اپنے رشتوں سب چیزوں کو بھلا کر اور محض خدا کے بندے ہو کر وہ ہمیشہ خدا کی جماعت کے نظام کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہ لوگ جو ایسے موقع پر خوشی محسوس کرتے ہیں کہ فلاں کو نیچا دکھا دیا گیا، فلاں گر گیا اور پھر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دیکھو وہ گندہ تھا نا اس لئے نکال دیا گیا ہم پہلے ہی سمجھا کرتے تھے کہ ہمارا مخالف تھا اور ان کو ذلیل ورسوا کرنے کے لئے پھر خدا تعالیٰ بعض دفعہ عجیب سامان کرتا ہے۔ایک جماعت کے ایک شخص کے متعلق مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ اس کو امارت کے عہدہ سے ہٹا دیا جائے۔اس لئے نہیں کہ وہ نعوذ باللہ میرے نزدیک گندا تھا بلکہ ایک ایسی غلطی کی تھی جو امیر کوزیب نہیں دیتی اور یہ اس نصیحت کی خاطر تھا کہ جماعت کو سمجھ آجائے کہ یہ غلطی قابل قبول نہیں ہے اور جتنے بڑے مرتبہ پر کوئی ہو اتنی ہی وہ غلطی نمایاں ہو جایا کرتی ہے جس کا اثر جماعت پر پڑتا ہو۔وہ مجبوراً نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔انفرادی غلطیاں لوگوں میں ہزار ہوتی ہیں جن کی خدا پردہ پوشی فرماتا ہے لیکن وہ