خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد ۱۲ 282 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء سانپ ایسے ہیں جو ویسے نہیں کاٹتے اور جب تک ان کو کچلا نہ جائے اس وقت تک وہ غصے سے اپنا پھن نہیں اُٹھاتے۔پس ہر انسان کے اندروہ شیطان موجود ہے جس کا ذکر اصدق الصادقین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اس کو بس کچلنے کی دیر ہے پس ایسے لوگ جب کوئی عہدہ پاتے ہیں اور کسی وجہ سے ان کو عہدہ سے معزول کیا جاتا ہے یا ان کا انتخاب ہوتا ہے اور نامنظور کر دیا جاتا ہے پھر دیکھیں کہ کس طرح ان کے پھن کھلتے ہیں، کس طرح ان کے سر بلند ہوتے ہیں اور اس طرح ظاہری طور پر سجدہ ریز وجود کے اندر سے ایک شیطان اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور بعض لوگ پھر ساری زندگی کا مشغلہ یہ بنا لیتے ہیں کہ ہم نے اس بات کا انتقام لینا ہے اور ان کے سارے طور طریق قرآن کریم نے شیطان کی اس کہانی میں بیان فرما دئیے جو مختلف جگہ مختلف پہلوؤں سے بیان فرمائی گئی ہے اس کا ایک غول ہوتا ہے اس کا ایک لشکر ہوتا ہے اس کے کچھ ساتھی بنے شروع ہوتے ہیں اور وہ ان کی سرداری کرتا ہے۔پس ایسے لوگوں کا رد عمل اس وقت پہنچانا جاتا ہے جب یہ اپنی حرکتوں سے اپنے آپ کو شیطان کے مشابہ کرتے چلے جاتے ہیں۔جب ان میں سے کسی کو عہدوں سے معزول کیا جائے تو وہ وقت ہے ان کی پہچان کا کہ وہ آدم کی سرشت سے ہے مٹی کی سرشت سے ہے یا ابلیس کی سرشت سے پیدا کیا گیا ہے، پیدا تو دونوں کو ایک ہی سرشت سے کیا گیا تھا دونوں صفات موجود ہیں مراد یہ ہے کہ کیا اس نے جب اس کو اختیار دیا گیا تو اپنے لئے آدم بننا پسند کر لی یا شیطان کی سرشت اختیار کرنے کو اپنالیا۔ایسے موقعوں پر بعض لوگوں کے چہروں سے پردے اٹھتے ہیں اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اتنا بڑا علم، اتنی بڑی ان کی تربیت اور اتنے لمبے دور تک خدمتوں کی توفیق پانے والے ایک ٹھوکر میں آکر ہمیشہ کے لئے ذلیل اور رسوا ہو جاتے ہیں یعنی خدا کی نظروں سے گر جاتے ہیں اسی کا نام رجیم ہونا ہے اور پھر ان کی زندگی شرارت پر وقف ہو جاتی ہے۔ان کے طور طریق یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو وہ آدم میں نقائص ڈھونڈتے ہیں (یہاں آدم سے مراد یا خلیفہ اللہ سے مراد خدا کی جماعت کا نمائندہ ہے ) اور لوگوں میں بیٹھ کر اس پر تبصرے کرتے ہیں کہ یہ امیر جس کی تو یہ عادت ہے یہ حرکت ہے اپنوں یا رشتے داروں کے لئے یہ کرتا ہے اور دوسروں کے لئے یہ کرتا ہے فلاں معاملہ میں اس کا یہ طور طریق ہے اور اسی معاملہ میں ایک دوسرے سے اس کا یہ طور طریق ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ پہچان کرنی کہ یہ لوگ