خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 280

خطبات طاہر جلد ۱۲ 280 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء الصلى الله الله زیادہ مٹی ہوا اسے۔ ہوا اُسے سب سے زیادہ سر بلندی عطا کی گئی۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفی کا مقام سمجھنا ہو تو اس آیت کے اس پہلو پر غور کریں کہ شیطان نے یہ تہ ان نے یہ تسلیم کیا کہ تو نے آدم کو یعنی خلیفہ کومٹی سے پیدا کیا ہے اور خلافت کا معراج حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے پس مٹی کی تمام صلاحیتیں اپنی پوری شان کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے وجود میں جلوہ گر ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ عجز آپ میں تھا اس لئے سب سے زیادہ رفعتیں آپ کو عطا ہوئیں۔ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ۔اذا تواضع العبدر فعه الله الى السماء السابع بالسلسلة كہ جب خدا کا ایک بندہ تواضع کرتا ہے اُس کے سامنے جھک جاتا ہے گر جاتا ہے تو اُس جھکے ہوئے انسان کی رفعت وہاں سے شروع ہوتی ہے رفعه الـ الله ۔ اللہ اسے اُٹھاتا ہے الی السماء السابع ساتویں آسمان تک اُٹھا کر لے جاتا ہے بالسلسلة ظاہر بین اس کا ترجمہ زنجیروں سے کرتے ہیں یعنی زنجیر میں جکڑا اور اُٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا وہ جو رفع کا اس قسم کا بدنی تصور آسمان پر چڑھنے کا کرتے ہیں ان کا ذہن اس طرف جاتا ہے اور قرآن کریم کے نہایت ہی لطیف اور اعلیٰ مطالب کو وہ کھو دیتے ہیں بالسلسلة سے مراد یہ ہے کہ جس طرح زنجیر کی کڑیاں ہوتی ہیں اسی طرح عاجزی اور تواضع اور آسمان کی رفعتوں کے درمیان بے شمار کڑیاں ہیں۔ ایک زنجیر جو بے شمار کڑیوں سے بنی ہوئی ہے پس جتنا جتنا کوئی تواضع کرے گا اتنا اتنا اس کو رفعتیں نصیب ہوں گی ہر تواضع کرنے والے کو ساتویں آسمان تک نہیں پہنچایا جائے گا بلکہ کسی کو زنجیر کی پہلی کڑی تک اٹھایا جائے گا کسی کو دوسری کڑی تک غرضیکہ رفتہ رفتہ وہ انسان جو خدا کے نزدیک تواضع میں انتہا کر لیتا ہے اس کی رفعت ساتویں آسمان تک ہوگی۔ یہاں عبد سے مراد بنی نوع انسان میں عجز کرنے والے تمام بندے ہیں۔ حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کا مقام ان تمام عباد سے الگ اور ممتاز تھا اس لئے یہاں آپ کا آخری مقام بیان نہیں فرمایا میٹی کی انتہائی صلاحیتیں جہاں تک پہنچا سکتی تھیں اس کے بالکل آخری کنارے پر آپ فائز تھے چنانچہ آپ کا معراج ساتویں آسمان سے بلند تر ہوا جس سے پیچھے ساری مخلوق رہ گئی ہے انسانی مخلوق بھی اور غیر انسانی مخلوق بھی ، فرشتے ، جن ، ہر قسم کی جتنی مخلوقات ہیں ان سب کو اس مرتبہ تک پہنچنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی جس بلندی تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی رفعتیں ہوتی ہیں ۔ پس بتایا کہ مٹی کی صفات جو عجز کی صفات ہیں اور نشو و نما کی صفات ہیں دو قسم کی صفات ہیں الله