خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد ۱۲ 275 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء جھکو کیونکہ اب اس کے سامنے جھکنا اس کے وجود کے سامنے جھکنا نہیں رہا بلکہ اللہ کے سامنے اور خالق کے سامنے جھکنا بن گیا ہے۔یہ وہ دہ مضمون ہے جسے چند لفظوں میں سمجھایا گیا اور ا بھی اس مضمون کے بہت سے پہلو ہیں جن پر میں تفصیل سے روشنی نہیں ڈال رہا کیونکہ میں پہلے بھی بارہا اس پر گفتگو کر چکا ہوں لیکن اس سے آپ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک لفظ میں کتنے مضامین سمیٹ کر رکھ دیئے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ اے ابلیس! تجھے کس بات نے منع کیا تھا کہ اس وجود کی اطاعت سے روگردانی کرو۔خَلَقْتُ بِید ی جسے میں نے خود اپنی قدرت کے ہاتھوں سے بنایا ہے۔عام نظام قدرت سے بھی، غیر معمولی اور خاص روحانی نظام قدرت کے ساتھ بھی اَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِینَ کیا تو تکبر کا شکار ہو گیا ، تو نے تکبر سے کام لیا یا ویسے ہی بڑا بن بیٹھا ہے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگ گیا ہے حقیقتا سمجھ رہا ہے کہ تو بہت بڑا ہے۔ان دونوں باتوں میں ملتے جلتے مضامین ہیں لیکن بار یک فرق ہے ابلیس نے اس کے جواب میں یہ کہا قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ واضح بات ہے میں اس سے بہتر ہوں خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِین کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔یعنی جس چیز سے ہماری سرشت اٹھائی گئی میر اسرشت کا مادہ اس کے سرشت کے مادہ سے افضل اور زیادہ طاقتور ہے آگ مٹی پر غالب آجاتی ہے اُس کو جلا دیتی ہے اور مٹی میں نمو کی جو طاقتیں ہیں آگ میں پڑ کر وہ تمام طاقتیں کھوئی جاتی ہیں۔تو یہ اس نے کہا کہ اے خدا تو اپنے پیدا کرنے کی بات کر رہا ہے تو میرا جواب سن لے تو نے ہی مجھے بہتر مادے سے پیدا کیا ہے اور غالب آنے والے مادے سے پیدا کیا ہے اس لئے مجھے حق ہے کہ میں انکار کر دوں قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِیم تو اُس حالت سے نکل جا، دور ہو جا فَإِنَّكَ رَحِيم تو دھتکارا ہوا اور راندہ درگاہ ہے۔اس مضمون میں ایک اشکال یہ ہے کہ کہاں سے نکل جا کیونکہ جہاں تک جنت کا تعلق ہے شیطان کے جنت میں ہونے کا تو سوال ہی کوئی نہیں ہے اور نہ اس جنت کی باتیں ہو رہی ہیں جو جنت ہمیں مرنے کے بعد خدا کے فضل کے ساتھ نصیب ہوگی۔پس وہ کونسی چیز ہے جس میں سے نکل جانے