خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد ۱۲ 23 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ء کئے جاتے ہیں آواز کے شش جہت میں پھیلنے کا محاورہ میرے علم میں نہیں آیا کہ پہلے کبھی استعمال ہوا ہولیکن اس وقت بغیر سوچے یعنی بغیر کوشش کے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں یا کہنا چاہتا ہوں ،شش جہت کا لفظ مجھے اچھا لگا اور وہی محاورہ منہ سے نکلا اور اب ٹیلی ویژن کے ذریعے شش جہات ہیں جو استعمال ہو رہی ہے کیونکہ چاروں طرف کا سوال نہیں ہے آواز اور تصویر پہلے اوپر آسمان کی طرف جاتی ہے پھر آسمان سے زمین کی طرف مڑتی ہے پھر چاروں طرف پھیلتی ہے تو خدا تعالیٰ نے شش جہات کے لفظ بھی پورے فرما دیئے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بعض دفعہ تصرفات کے تا ات کے تابع بعض کلمات انسان کے منہ سے نکلتے ہیں اور خود کہنے والے کو ان کی کنہ کا علم ہی نہیں ہوتا کہ میں کیوں کہہ رہا ہوں اور بعد میں یہ بات کیا بن کر نکلے گی ، تو یہ اللہ کے احسانات ہیں ۔ میں تمام دنیا کی جماعتوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جن کمزوروں کے دل میں ایک اچنبھے کی بہ خاطر ہی سہی ، تعجب کی وجہ سے ہی سہی ، ایک شوق تو پیدا ہوا ہے کہ مجھے ٹیلی ویژن کے ذریعہ سے دیکھیں اور سنیں اگر وہ ایک دو دفعہ سن کر واپس چلے جائیں تو ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا ، ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جو آئے وہ مستقل آجائے جو ہمارا ہو ہمارا ہو کر رہ جائے ، آ کر چلے جانے والوں سے ہمیں کوئی مقصد، کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ دل میں بڑی تمنا یہ ہے کہ ساری جماعت ایک مرکز کے گرد اس طرح اکٹھی ہو جائے جس طرح شہد کی مکھیاں شہد کی ملکہ کے گرد اکٹھی ہوتی ہیں اور اپنی الگ زندگی کا تصور ہی نہیں کر سکتیں اور الگ زندگی میں وہ Survive نہیں کر سکتیں یعنی ان کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔ اکیلی اکیلی لکھی لازماً مر جایا کرتی ہے۔ تو یہی روحانی جماعتوں کا حال ہوتا ہے تبھی حضرت اقدس محمد مصطفی یا اللہ نے مرکزیت پر اتنا زور دیا ہے کہ دنیا کے کسی مذہب میں اتنا زور نہیں دیا گیا۔ پس جو بکھرے بکھرے احمدی ہیں، جو کناروں پر چلے گئے ، جن کا مرکز سے تعلق کمزور ہو گیا، اب بہت اچھا موقع ہے کہ جب وہ ایک دفعہ آجائیں تو ان کو اپنا لیا جائے ، ان سے محبت اور پیار کا سلوک کیا جائے ، آئندہ اگر وہ نہ آئیں تو ان کو بلانے کے لئے آدمی بھیجے جائیں اور اسی طرح اور کمزوروں کی تلاش کی جائے کہ جہاں جہاں کوئی کمزور ہے وہاں اس تک پہنچ کر اسے یہ تحریک کی جائے کہ ایک دفعہ آجاؤ دیکھ تو لو اور پھر میں امید رکھتا ہوں کہ جو رفتہ رفتہ آجائے وہ پھر خدا کے فضل سے آہی جاتا ہے۔