خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 262

خطبات طاہر جلد ۱۲ 262 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء تو کسی حالت میں نہیں ملے گی۔پس عبادتوں کو قائم کریں۔اس پہلو سے میں ایک خوشی کی خبر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس سے مجھے بہت خوشی پہنچی ساری جماعت کو بھی اس میں شامل ہونا چاہئے۔میں نے اپنے خطبہ جمعۃ الوداع میں یہ کہا تھا کہ مجھے ابھی سے فکر لگ رہی ہے کہ عید کے دن مسجدوں کا کیا حال ہوگا۔وہ مسجدیں جو جمعتہ الوداع میں بھر گئی ہیں۔وہ عید والے دن کہیں نمازیوں کو تلاش نہ کریں اور ان پر بے رونقی نہ آجائے کہ سارے لوگ اپنی عبادتیں جمعتہ الوداع کے ساتھ ہی وداع کر بیٹھے ہوں۔اللہ کے فضل سے اس سلسلہ میں مجھے جو پہلی رپورٹ ملی وہ ربوہ کی طرف سے تھی وہاں تقریباً ساری رات خدام انصار اور بچے منصوبے بناتے رہے اور پھر نماز سے کافی وقت پہلے علی اصبح انہوں نے گھر گھر کی کنڈی کھٹکھٹائی اور اس کے نتیجہ میں عید والے دن اتنے نمازی اکٹھے ہوئے کہ بعض لکھنے والوں نے جو انتظام سے الگ لکھنے والے ہیں یعنی انتظام میں شامل نہیں تھے بلکہ زائر تھے انہوں نے لکھا کہ ہم نے ربوہ کی مساجد میں اور تمام مساجد میں آج تک کبھی صبح کے نمازی اتنی تعداد میں نہیں دیکھے جتنے عید والے دن تھے۔تو آپ نے تو یہ کہہ کر میری عید بنادی اور باقی جماعتوں کی طرف سے بھی اسی قسم کی خوشیوں کی خبریں ملی ہیں لیکن اس عید کو دائی کریں تو مزہ ہے۔عارضی عیدوں کا کیا فائدہ جو اپنے پیچھے غم چھوڑ جائیں اس لئے نماز کو چمٹ جائیں اور اس کو ایک دائمی حقیقت بنالیں۔یہ آپ کی زندگی کا ایسا جز و ہو جیسے سانس ہوا کرتے ہیں۔سانسوں کے بغیر انسان رہ ہی نہیں سکتا۔اسی طرح حقیقت میں عبادت کے بغیر بھی کسی انسان کی یا قوم کی روحانی زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔پس ایک تو باہر سے کنڈی کھٹکھٹانے والے ہیں جو اس دن آپ نے مہیا کئے ہیں۔یہ کنڈی کھٹکھٹانے والے مستقل مزاجی سے کنڈیاں نہیں کھٹکھٹا سکتے۔مجھے انتظاموں کا لمبا تجربہ ہے خدام الاحمدیہ کی مختلف سطح پر میں نے کام کئے ہوئے ہیں اور مختلف تنظیموں میں کام کئے ہوئے ہیں کچھ عرصہ تک لوگ جوش دکھاتے ہیں ، کنڈیاں کھٹکھٹا دیتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد آہستہ آہستہ تھک کر وہ رہ جاتے ہیں اور وہ لوگ جن کو بار بار سہارا دے کر آگے لے جانے کی عادت پڑ گئی ہو جب سہارا نہیں رہتا تو وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اس لئے یہ کوئی دائی علاج نہیں ہے۔ایک دن کی خوشی تو ہے لیکن کوئی ایسی خوشی نہیں جو ہمیشگی کی خوشی بن چکی ہو اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ہر نفس کے اندر سے ایک کنڈی کھٹکھٹانے