خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 261
خطبات طاہر جلد ۱۲ 261 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء حیثیت ہے؟ کچھ بھی نہیں ہے۔نہ میری پسند کی نہ اس کی پسند کی جس کی رضا کی خاطر ہم اکٹھے ہوئے ہیں۔اس کی پسند کی اصل حقیقت ہے۔پس اے خدا مجھے تو اپنی پسند عطا فرما دے، میری آنکھوں کا ٹیڑھا پن دور کر دے، میری آنکھوں پر اگر تعصب کے یا کسی تعلق کے کوئی پردے حائل ہوں تو ان پردوں کو کاٹ کر الگ پھینک دے، مجھے اپنی رضا دکھا ، اپنی رضا کی راہیں دکھا اسی کو ووٹ دینے کی توفیق عطا فرما جو تیرے نزدیک متقی اور تیرے نزدیک سب سے معزز ہے۔یہ دعا کرتے ہوئے جو جماعت اپنا انتخاب کرتی ہے۔مجھے یقین ہے اور ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس انتخاب کی حفاظت فرمائے گا اور ہر ایسا انتخاب جو ان دعاؤں کے ساتھ اور تقویٰ کی کوشش کے ساتھ کیا جائے گا۔بفضلہ تعالیٰ وہ اللہ ہی کا انتخاب ہو گا۔اس ضمن میں ایک اور اہم بات جو میں آپ کے سامنے یعنی مجلس شوری ہی کے نہیں بلکہ تمام دنیا کے احمدیوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تقویٰ کی اپنی جان بھی تو کسی قالب میں ہے نا اور وہ ہے کیا؟ تقویٰ کی جان عبادتوں میں ہے، وہ قوم جو عبادت سے خالی ہو جائے وہ تقویٰ سے خالی ہو جایا کرتی ہے۔قرآن کریم نے نماز کے متعلق فرمایا ہے کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وہ تمام چیزیں جن میں ملوث ہونے کے نتیجہ میں اللہ کی رضا ہاتھ سے جاتی ہے وہ بیان فرما دی اور فرمایا نماز ان کی حفاظت کرتی ہے۔پس تقویٰ کی اپنی جان عبادت میں ہے۔اس لئے عبادت کے اوپر میں غیر معمولی زور دینے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن لفظ غیر معمولی محض محاورہ ہے۔عبادت پر غیر معمولی زور دیا ہی نہیں جاسکتا۔ہر زور جو ہے وہ دے دیں تب بھی وہ معمولی دکھائی دے گا کیونکہ عبادت میں تو سب کچھ ہے اس کے سوا کچھ بھی باقی نہیں۔آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے اپنی بہت سی مجبوریاں پیش کیں اور ان مجبوریوں کے نتیجہ میں اس نے کہا میں گڈریا ہوں، میرے کپڑے کئی دفعہ جانوروں کے پیشاب میں لت پت ہو جاتے ہیں، کئی دفعہ اور کئی پہلوؤں سے گندے ہو جاتے ہیں، مصروفیتیں ہیں۔وغیرہ وغیرہ تو اتنی لمبی تقریر کے بعد پوچھا یہ کہ کیا ان حالتوں میں مجھے نماز سے رخصت مل سکتی ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز نہیں تو پھر رہا کیا کچھ بھی نہیں تو پھر دین کیا۔پس عبادت تو کسی صورت میں ٹل نہیں سکتی۔عبادت کو اچھا کرنے کے لئے آپ کو اچھا بنا پڑتا ہے لیکن اگر اچھا نہ بھی بن سکیں تب بھی عبادت لازم ہے وہ