خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد ۱۲ 257 خطبه جمعه ۲ را بریل ۱۹۹۳ء اور اس کے بعد پھر وہ متقیوں کا ایک گروہ اپنے گرد پیدا کرتا ہے، وہ دہی کے قطرے کی طرح دودھ میں جاگ بن جاتا ہے اور جو بھی لوگ اس کے ارد گر دا کٹھے ہوتے ہیں وہ نبی کے تقویٰ سے تقوی پا کر متقی ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پھر ان کا انتخاب خدا کا انتخاب کہلاتا ہے اگر وہ متقی نہ ہوں تو ان کا انتخاب خدا کا انتخاب کہلا ہی نہیں سکتا۔پس جماعت احمد یہ جب کہتی ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے تو ان معنوں میں خدا بناتا ہے۔پس خلافت کے ساتھ جماعت کے تقویٰ کا بہت گہرا تعلق ہے۔اگر جماعت متقی ہوگی تو اس کا انتخاب خدا کا انتخاب ہو گا۔اس کی نظر ہمیشہ تقویٰ پر پڑے گی اور اس کی عزتوں کا معیار تقویٰ رہے گا۔یہ بات خلافت سے اتر کر درجہ بدرجہ جماعت کے ہر عہدے پر چسپاں ہوتی ہے جس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔اب میں مجلس شوری کی طرف واپس آتا ہوں مجلس شوری کے نمائندوں کا انتخاب اگر تقویٰ کی بناء پر ہو اور تقویٰ کی بناء پر ہوتا ہے۔تو وہ لوگ جو مجلس شوری میں جو جماعت احمدیہ کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی نظر کسی گروہی مفاد پر نہیں ہوگی کسی ذاتی تعلق یا ذاتی عناد پر نہیں ہوگی ان کے فیصلے خالصہ اللہ ہوں گے، ان کی نظر ہمیشہ اللہ کی رضا پر رہے گی۔وہ یہ سوچیں گے کہ ہمارا خدا ہم سے ناراض نہ ہو جائے اسی کا نام تقویٰ ہے۔وہ شخص جو اپنے محبوب کی محبت کے کھو دینے کے خوف میں زندگی بسر کرتا ہو وہی متقی ہے۔پس جو ہر لحظہ یہ سوچتا ہو کہ کہیں اس بات سے تو میرا خدا ناراض نہیں ہو جائے گا، اس بات سے تو میرا خدا ناراض نہیں ہو جائے گا۔محبت کھو دینے کا یہ خوف ہے جو حقیقت میں تقویٰ کی جان ہے۔پس اس پہلو سے جب وہ مشوروں کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں ان میں طعن و تشنیع ، ہوشیاریوں میں، چالاکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا تصور، ایک دوسرے سے بہتر تقریر کرنے کا تصور، ایک دوسرے کے دلائل کو ردکرتے ہوئے ذاتی فخر کا خیال کہ ہم نے یوں مارا۔ایسی دلیل دی کہ کمال کر دیا اور ووٹ زیادہ حاصل کرنے کا تصور یہ ساری باتیں اس مجلس سے Banish ہو جاتی ہیں جو تقویٰ پر مبنی ہوں ان کو دیس نکالامل جاتا ہے۔ایسے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔جو جیتیں تب ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہاریں تب ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک شخص اکیلا رہ جائے اور اپنی بات پر قائم ہو تو اس وجہ سے اپنی بات پر قائم ہوگا کہ اس کے نزدیک خدا کو یہ بات پسند ہے۔اس کو ذرہ بھی فرق نہیں پڑتا کہ باقی لوگوں نے اس کی تائید کی ہے یا نہیں وہ پوری