خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 242

خطبات طاہر جلد ۱۲ 242 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء زکوۃ کا جو ذکر فرمایا اور آخر پر میں نے جلدی سے اس کا حوالہ دے کر کہا کہ زکوۃ میں صدقہ خیرات سارے مضامین داخل ہیں۔اس لئے لوگ صدقہ خیرات کی طرف بھی توجہ کریں اور اس ضمن میں بوسنین کا بھی میں نے ذکر کیا اور دوسرے غرباء کا بھی تو فیصل آباد میں چونکہ تاجر مزاج لوگ زیادہ ہیں اور تاجروں میں بعض کمزوریاں بھی ہیں بعض خوبیاں بھی ہیں۔خاص طور پر اس علاقہ کے تاجر چندہ مار جائیں گے مگر ز کوۃ کم مارتے ہیں، خوف کھاتے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ محض اللہ چندہ دیتے ہیں لیکن بعض خوف سے بھی دیتے ہیں کہ ہمارے مال میں بے برکتی نہ پڑ جائے اور چندہ سے زیادہ زکواۃ کے معاملہ میں بعض علاقوں کے تاجر ڈرتے ہیں کہ زکوۃ اگر ہم نے رکھی تو پھر خدا ہمارے مال واپس لے لے گا اور زکوۃ دیتے وقت دل چاہتا ہے کہ کسی بہانے ہمارا تصرف قائم رہے۔پس اپنے عزیز رشتہ داروں وغیرہ پر خرچ کرنے کے جو تقاضے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ زکوۃ تو ہم نے نکالنی ہی نکالنی ہے اس میں سے ہی کیوں نہ دے دیں، باقی مال میں سے جو خواہ مخواہ نکالیں تو بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔پس اچانک ان کو بہانہ مل گیا اور انہوں نے بغیر میرے کہے خطبہ میں سے خود بخود یہ اندازہ نکال لیا کہ اب ہمیں اجازت مل گئی ہے کہ ہم زکوۃ خود خرچ کریں اور اپنے عزیزوں اور اقرباء کو دے دیں۔نائب امیر صاحب کا گھر یا ہوا ٹیکس ملا کہ ہم کیا کریں اور وہ فورا جواب چاہتے تھے لیکن میں نے فوراً جواب نہیں دیا۔میں نے کہا، ان کو خرچ کرنے دو۔زکوۃ اسی طرح کھڑی رہے گی۔غریبوں کا فائدہ تو ہو جائے ، رمضان آرام سے گزر جائے۔جتنا انہوں نے بانٹنا ہے بانٹ لیں۔پھر میں ان کو بتاؤں گا کہ تمہاری زکوۃ کا ایک ایک پیسہ واجب الادا ہے۔اسی طرح کھڑا ہے تو آج میں خطبہ کے ذریعہ ان کو یہ بات سمجھا رہا ہوں اور نائب امیر صاحب بھی گھبرائیں نہیں انشاء اللہ تعالیٰ اس تاخیر کا فائدہ ہی ہوگا۔ایک چھوٹی سی بات یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک خطبہ میں یہ کہا تھا کہ جماعت کو چاہئے کہ لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دو، بدیوں سے روکو اور اس سلسلہ میں دنیا کے سیاستدانوں کو اور بڑے بڑے راہنماؤں کو براہ راست خط لکھو اور توجہ دلاؤ کہ تم غلط رستوں پر چل پڑے ہو۔سمجھو سنبھلو ورنہ تم اپنی قوموں کے ساتھ مٹا دیئے جاؤ گے۔اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان پر اتنی سختی کی جائے کہ گویا ان کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ہمارے سمجھنے والے بعض عجیب طرح بات سمجھتے ہیں۔مجھے بعض دوستوں نے