خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد ۱۲ 232 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء پیوند مت توڑو۔سب سے پہلے یہ مضمون پیش نظر ہے۔پھر محمد رسول اللہ اللہ سے پیوند مت توڑو، مجھے سے پیوندمت تو ڑو، میری جماعت سے پیوند مت تو ڑ وہ نیکیوں سے پیوندمت تو ڑو یعنی ہر وہ چیز جو پیار کے لائق ہے اُس سے چمٹ جاؤ اور لوگوں کے دباؤ اور مخالفتوں کے نتیجہ میں ان اعلیٰ پاکیزہ تعلقات پر زد پڑنے نہ دو۔وو۔۔تم خدا کی آخری جماعت ہوسو وہ عمل نیک دکھلا ؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ہر ایک جو تم میں سست ہو جائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا دیکھو میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا در حقیقت موجود ہے اگر چہ سب اُسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اُس شخص کو چن لیتا ہے جو اُس کو چتا ہے وہ اُس کے پاس آجاتا ہے جو اُس کے پاس جاتا ہے جو اُس کو عزت دیتا ہے وہ اس کو بھی عزت دیتا ہے۔تم اپنے دلوں کوسیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آجاؤ کہ وہ تمہیں قبول کرے گا عقیدہ کے رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمد یت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی پیخ سے جدا ہے۔“ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵-۱۶) پس وہ جو پیوند قائم رکھتے ہیں انہی کے لئے سب خوشخبریاں ہیں اور جو پیوند توڑتے ہیں۔اُن کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت کے بعد میں آخر پر چھوٹی سی نصیحت یہ کرتا ہوں کہ عید اب چند دن تک آنے والی ہے۔اس عید کو زکوۃ سے سجانے کی کوشش کریں۔عبادت کا مضمون تو بیان ہو گیا۔زکوۃ کا مضمون باقی ہے اور میں نے پہلے بھی جماعت کو بارہا نصیحت کی تھی کہ عیدوں کے موقع پر اپنے غریب ہمسایوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کریں۔اُن کے کچھ غم اُن کے گھروں میں جا کر دیکھیں اور اُن کے غم