خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد ۱۲ 224 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء نہیں ہے، آئے دن ہمارے سے آئے مانگتے رہتے ہیں ، کوئی نمک مرچ کا مطالبہ لے کر آجاتی ہے۔اُس کو دھتکار دیتے ہیں۔اگر دیتے ہیں تو بے عزتی کے ساتھ۔ایسے لوگ وہ ہیں اگر وہ نمازیں پڑھتے ہیں تو اللہ فرماتا ہے کہ اُن کی نمازیں نہیں ہوئیں کیونکہ وہ نمازوں سے غافل ہیں جو شخص نمازوں سے غافل نہ ہو۔اُس میں یہ بد عادت پائی نہیں جاسکتی۔جس کو نمازیں خدا کے قریب کرتی ہیں۔اُسے نمازیں لازماً اُس کے بندوں کے بھی قریب کرتی ہیں۔یہ اصول ہے جو ان آیات میں ہمارے سامنے کھول کر بیان ہوا ہے۔پس نمازوں کی قبولیت کی پہچان خدا کے بندوں سے حسن سلوک ہے جو اللہ کے قریب ہوتے ہوئے اُس کی مخلوق کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔اُس کے لئے خوشخبری ہے کہ اُس کی عبادتیں مقبول ہوئیں جو خدا کے قریب ہوتے ہوئے بندوں سے دور ہو رہا ہے۔اُس کی نمازیں مردود ہیں، اُن کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔وہ نمازیں اُس پر لعنت ڈالتی ہیں۔اُن نمازوں سے آواز آتی ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ ہلاکت ہو ایسے نمازیوں کے لئے۔پس جن نمازوں کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں۔قرآن کریم کے الفاظ میں اُن نمازوں کی طرف بلا رہا ہوں جن کا پہلے تذکرہ کیا۔قرآن کریم نے مختلف پہلوؤں سے ان نمازوں پر روشنی ڈالی ہے مگر میں نے صرف چند آیتیں وقت کی رعایت سے چینی ہیں۔اب میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ کی بعض مقدس نصائح آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جن سے نماز کے مضمون پر مختلف پہلوؤں سے روشنی پڑتی ہے اور نماز کے لئے واقعہ دل میں غیر معمولی تحریک پیدا ہوتی ہے۔کوئی نصیحت کرنے والا ایسی مؤثر نصیحت نہ کر سکا، نہ کر سکے گا جیسے ہمارے آقا ومولا حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے کیں۔سادہ تھوڑے الفاظ میں ایسی پاکیزگی ہے، ایسی سچائی ہے کہ اُس کے اثر کو قبول نہ کرنا بندے کے بس میں ہی نہیں رہتا۔سوائے اس کے کہ کوئی شقی القلب بدنصیب پیدا ہوا ہو۔حضرت محمد رسول اللہ اللہ کی نصیحت سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نصیحت نہیں ہے۔قرآن کے بعد اگر کوئی چیز دل پر اثر کرتی ہے تو وہ ہمارے آقا و موالہ کی نصیحت ہے اور اسی لئے میں نے آپ کے ہی الفاظ میں آج نماز کے مضمون کو بیان کرنے کے لئے بعض حدیثوں کو اختیار کیا ہے۔سنن ابو داؤد میں آتا ہے۔