خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 223

خطبات طاہر جلد ۱۲ 223 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء پھر اس کے مقابل پر بعض ایسے نمازی بیان فرمائے گئے ہیں جو آتے ہیں پڑھ جاتے ہیں کبھی نہیں پڑھتے ، سمجھتے ہیں کہ ہم بھی نماز کا حق ادا کر رہے ہیں اور اُن کی ایک پہچان بھی بتا دی گئی ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ ( الماعون : ۵) ایک طرف تو رحمتوں اور وراثت کے وعدے ہیں اُن لوگوں سے جو نمازوں پر قائم ہیں اُن کی حفاظت کرتے ہیں دوسری طرف لعنت ڈالی جا رہی ہے کن لوگوں پر ؟ نماز پڑھنے والوں پر فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ لعنت ہو ان نمازیوں پر، ہلاکت ہوان کے لئے، الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) (الماعون:۲) نمازیں تو پڑھتے ہیں لیکن نمازوں سے غافل ہیں، ادا اس طرح کرتے ہیں کہ ایک چیز کو ٹال رہے ہیں اور تیزی سے اُس سے گزر جاتے ہیں اور کچھ پتا نہیں کہ نماز ہے کیا ؟ کیا اُس میں پڑھتے ہیں؟ کیا اُس کے حقوق ہیں؟ کس طرح نمازوں کو زندہ کیا جاتا ہے؟ الَّذِيْنَ هُم يُرَآءُونَ ) ( الماعون : ۷ ) یہ وہ لوگ ہیں جن میں ریا کاری پائی جاتی ہے۔یہ مضمون بھی بہت گہرا مضمون ہے۔سَاهُونَ کا يُرَآءُونَ سے کیا تعلق ہے؟ اس سلسلے میں میں پہلے ایک دفعہ مضمون بیان کر چکا ہوں۔آئندہ پھر اگر موقع ملا تو انشاء اللہ بیان کروں گا۔وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ) ( الماعون: ۸) ایسے نمازیوں کو نمازیں فائدہ نہیں پہنچاتیں اور اُن کے بنی نوع انسان سے تعلقات سدھرتے نہیں ہیں۔یہ بہت ہی عظیم الشان بات بیان فرمائی گئی ہے اور ایک ایسی پختہ نشانی ان لوگوں کی بیان کر دی گئی ہے جس سے یہ پہچانے جاتے ہیں ہر انسان اپنے آپ کو پہچان سکتا ہے کہ میری نمازوں کی حیثیت کیا ہے؟ فرماتا ہے وہ چھوٹے چھوٹے فائدوں سے اپنے ہمسائیوں اور گردو پیش کو محروم رکھتے ہیں۔يَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ دوسروں پر خرچ کرنے سے خود بھی رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی روکتے ہیں یعنی اُن کی خود غرضی بڑھتی چلی جاتی ہے اور بنی نوع انسان سے اُن کے تعلقات محبت اور رافت کے ساتھ استوار نہیں ہوتے ہیں بلکہ بے پرواہی اور لا ابالی کا رنگ اختیار کر جاتے ہیں۔پر واہ ہی کوئی نہیں، غریب ہمسایہ بھوکا مر رہا ہے، کسی تکلیف میں ہے، کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس کی فلاکت اُس کے چہرے، اُس کے کپڑوں سے ہویدا ہو، نمایاں ہو۔ان کے دلوں میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہوتی۔بڑی چیزیں خرچ کرنا تو در کنار ، چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی اُن پر خرچ نہیں کر سکتے۔ایک ہمسائی غریب آتی ہے کہ تھوڑا سا آٹا دے دو۔مالک آ گیا مالک کہتے ہیں کہ جاؤ جاؤ، ہمارے پاس کوئی آٹا