خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 208
خطبات طاہر جلد ۱۲ 208 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء مقام محمود کے قریب پہنچ کر اس سے دور ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔دو چار ہاتھ لب بام رہ گئے والی بات ہے۔قسمت کی خوبی دیکھئے کہ ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا پس جب تک ایک رمضان کو دوسرے رمضان کے ساتھ تہجد کے ذریعے ملا نہیں دیتے اُس وقت تک حقیقی معنوں میں اُس وقت تک آپ مقام محمود کے قریب نہیں پہنچ سکتے اور یہ وعدہ آپ کے لئے ہمیشہ مستقبل کا وعدہ ہی بنا رہے گا۔پس مقام محمود کو حاصل کرنے کے لئے عبادت کے رستے سے داخل ہوں اور رات کی تہجد کی عبادت پر زور دیں اور ایک دفعہ جب یہ عبادت شروع کریں تو اس کو چھوڑیں نہیں اور ہمیشہ اس عبادت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبادت پر کیسے قائم ہوں؟ بڑا مشکل کام ہے۔وہ سورۃ یعنی سورۃ فاتحہ جس میں مقام محمود کا ذکر ہے ، مقام محمدیت کا ذکر ہے، مقام حمد کا ذکر ہے جس میں اس مضمون کی کنجی رکھی گئی ہے، اس میں اس مضمون کی بھی کنجی رکھ دی گئی ہے جواب میں بیان کرنا چاہتا ہوں، عبادت کرنی ہے تو کیسے کریں پھر ؟ تو فیق ہی نہیں ملتی انسان کھڑا ہوتا ہے دوسرے مسائل انسان کو گھیر لیتے ہیں، ہستیاں غالب آ جاتی ہیں، توجہ کبھی اس طرف کبھی اُس طرف کبھی دنیا کے کاموں کی طرف کبھی خوف گھیر لیتے ہیں، کبھی تمنا ئیں چھٹ جاتی ہیں، ہر طرف سے بتوں کا گھیرا ہوتا ہے تو جو نماز پڑھتا بھی ہے اس کی توجہ بھی بٹتی رہتی ہے اور ایک بڑی تعداد ہے جو کبھی پڑھ لیتی ہے نماز اور نہیں بھی پڑھتی اور ایسے بچے گھروں میں پل رہے ہیں اور کوئی توجہ نہیں کر رہا، کوئی دیکھ نہیں رہا۔خصوصیت سے ہماری دیہاتی جماعتیں پیش نظر ہیں۔جہاں ذیلی تنظیموں کے بازو بھی مضبوط نہیں ہوئے اور ماں باپ میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ اپنے بچوں کو نمازوں پر قائم کریں۔وہاں کئی قسم کے خطرات ہیں جو پنپ رہے ہیں اور اُن خطرات کا شکار کئی نسلیں ہو چکی ہوں گی اُن کی مجھے فکر رہتی ہے۔الحمد للہ کہ اب ان براہ راست خطبات کے ذریعے میں اُن تک پہنچ رہا ہوں۔اُن میں سے بہت سے رمضان کی برکت کے نتیجے میں بیٹھے ہوں گے سامنے ، آئے ہوں گے، کہیں گھٹیالیاں کی جماعت بیٹھی ہوئی ہے، کہیں کوئی اور سکھیکی کی جماعت ہے، سرگودھا کی جماعتیں ہیں، چک منگلا کی جماعت پہنچی ہوئی ہو گی، بے شمار جماعتیں ہیں جو مجھے یاد آتی رہتی ہیں جمعہ کے بعد اور میں سوچتا ہوں کہ جب میں خطبہ دوں گا تو